خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 819

خطبات طاہر جلد ۱۲ 819 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء کہ جماعت کو چھوڑ دیا۔اللہ سے منہ موڑ لیا، دنیا کو دین پر مقدم کر لیا لیکن وہ حرص نہ چھوڑی جو دوسرے کے مال پر نظر رکھنے کی حرص ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دو۔یہاں یہ بھی نہیں فرمایا کہ حق ہے یا نہیں ہے یہ بحث نہیں اٹھائی۔فرمایا کہ خدا سے محبت ایسی تام ہو جائے اور خدا کی خاطر دنیا ایسی حقیر دکھائی دینے لگے کہ تم میں ایک عظیم احسان کا جذبہ پیدا ہو جائے۔اللہ کی خاطر جب دنیا سرد ہوتی ہے تو انسان بعض دفعہ اپنے حق کو دوسرے کے قبضہ میں دیکھے تب بھی وہ اس کو چھوڑ دیا کرتا ہے اور اللہ کی خاطر یہ قبول کر لیتا ہے کہ اگر یہی بات ہے تو ٹھیک ہے خدا میرا رازق ہے۔تم جتنا مجھ سے چھینو گے اس سے بہت زیادہ عطا کر دے گا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حق کے لئے جدوجہد نہیں کرنی چاہئے مگر جہاں جدو جہد کی حد ختم اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی حد سے متصادم ہونے کا خطرہ ہو وہاں یہی حکم ہے کہ وہاں قدم روک لو اور خدا کی خاطر اپنے نقصان کو برداشت کر جاؤ۔اگر خدا غالب ہے اور می و ملکیتیں مغلوب ہیں تو ہر ایسے موقع پر جہاں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ حق چھوڑوں یا نہ چھوڑوں خدا کا تعلق ہی فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔پھر اگر انسان اللہ کی خاطر ہر حق چھوڑنے پر اپنے آپ کو آمادہ کر لے تو یہ سچا تنبل ہے جو اس کی زندگی کے ہر عمل میں کارفرما رہے گا اور جہاں بھی ایسا مقام آئے جہاں ایک چیز سے علیحدگی ، دوسری چیز کو اختیار کرنے کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں وہاں انسان ہمیشہ صحیح فیصلہ کرے گا۔میں نے تو دیکھا ہے کہ لوگ بہنوں کے حق مار جاتے ہیں اور ان کو وراثتوں سے محروم کر دیتے ہیں۔ابھی پرسوں مجھے ایک بچی کا بڑا دردناک خط ملا ہے۔اچھے کھاتے پیتے بھائی ہیں ، ماں باپ جائیداد چھوڑ کر گئے اور اس غریب بہن کو جس بیچاری کے آٹھ دس بچے بھی ہیں۔خاوند غریب ہے ، ان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا ، چھوڑا ہوا ہے اور خود عیش وعشرت کی زندگی میں مبتلا ہیں اور بہن کا حق ان کے مال میں داخل ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذریت :۲۰) کہ خدا سے تعلق رکھنے والے جو نیک لوگ ہیں ان کا تو یہ حال ہے کہ جو ان کا مال ہے اس میں بھی سائل اور محروم کا حق ہوتا ہے۔اس کا ایک معنی یہ بھی ہے لیکن وہ کیسے لوگ ہیں جو سائل اور محروم کا حق چھین کر اپنے مال میں داخل کرتے ہیں وہ مومن نہیں کہلا سکتے۔پس قضاء