خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد ۱۲ 818 خطبه جمعه ۲۲ /اکتوبر ۱۹۹۳ء کو سمجھایا ہے جو اس سوال کے دونوں پہلوؤں پر برابر اطلاق پاتا ہے اور ایک ہی نیکی ہے جس کے اجر کے طور پر اللہ بھی محبت کرتا ہے اور بندے بھی محبت کرتے ہیں۔ہمارے تعلقات کے جتنے بھی دائرے ہیں، دنیا میں جتنے فساد ہیں ان کی جڑ دنیا کی محبت اور اس رنگ میں محبت ہے کہ دوسرے کے مال پر حرص کی نگاہیں پڑتی ہیں جو اپنا حق نہیں ہے وہ لینے کی تمنا دل میں پیدا ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کو کامل یقین ہو جائے کہ اس شخص کو میری وجاہت میں ، میرے اموال میں، میری اچھی چیزوں میں ایسی دلچسپی ہرگز نہیں کہ انہیں اپنا لے، اس حد تک دلچسپی ہے کہ یہ چیزیں زیادہ ہوں تو یہ خوش ہو۔ایسے شخص سے لا زماوہ شخص محبت کرے گا جس کو اس کی طرف سے اسی کی طرح کا کامل اطمینان نصیب ہو اور کامل بے خوفی عطا ہو جائے۔دراصل حضوراکرم نے لفظ مسلم ہی کی یہ تعریف فرمائی ہے اور انسان کا اسلام کامل ہو نہیں سکتا جب تک اس سے دنیا بے خوف نہ ہو جائے اور تمام دنیا کو اس کی طرف سے حقیقت میں سلامتی کا پیغام نہ پہنچے۔یہ کیسے ممکن ہے اس کا یہی طریق ہے کہ دنیا کی محبت دل پر اس طرح سرد ہو جائے کہ جو کسی کی ملکیت ہے وہ اس کو مبارک رہے اور اس کو حاصل کرنے کی کوئی تمنا کوئی خیال دل میں پیدا نہ ہو اور جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے دنیا کا وجود اس کے سامنے ایک مردار کے طور پر دکھائی دے اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک زندہ محبت کے طور پر ہمیشہ اس کے دل پر غالب رہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت میں بھی بہت سے اختلافات، بہت سے خاندانی مسائل اس نصیحت پر عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں ہیں۔بہت سے ایسے خطوط مجھے ملتے ہیں ، بہت سے ایسے مقدمات قضاء میں جاتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایک باپ نے آنکھیں بند کیں تو اولاد جائیدادوں پر ایک دوسرے سے لڑ پڑی۔بعض ایسے مقدمے میرے سامنے ہیں جو ہیں پچیس سال سے مسلسل چل رہے ہیں اور کسی طرح کسی فیصلے سے ہر فریق کو اطمینان حاصل ہوتا ہی نہیں۔بہنیں بھائیوں سے لڑ پڑی ہیں، بھائی بہنوں سے لڑ رہے ہیں۔آگے ان کے بچے ان اختلافات کو لے دوڑے ہیں اور مسلسل سردردی کا سامان یہاں تک کہ بالآخر مجھے جراحی کا عمل کرنا پڑا اور فیصلہ کرنا پڑا کہ اب چاہے اس کو انصاف سمجھو یا نا انصافی سمجھو قضاء کے اس آخری فیصلے پر عمل کرو تو جماعت کے ساتھ رہو گے ورنہ جماعت سے کاٹے جاؤ گے اور کئی ایسے ہیں جنہوں نے یہ تبتل معکوس اختیار کر لیا