خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد ۱۲ 799 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء اس کے گرد ایک گروہ بننا شروع ہو جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا جھوٹا خدا وہاں جنم لے لیتا ہے۔اب یہ جو مضمون ہے اس کو اگر آپ گہرائی سے سمجھیں اور جماعت احمدیہ میں اٹھنے والے فتنوں کی تاریخ پر اس کو چسپاں کر کے دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ مضمون کس حد تک بار بار اطلاق پاتا ہے اور بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکر کھاتے رہتے ہیں۔کسی سے شکوہ ہے اور اگر وہ شکوہ دین کے معاملہ میں ہے تو اس کے لئے قرآن کریم نے ایک ہی رستہ بتایا ہے کہ إِنَّمَا أَشْكُوا بَغِى وَحُزْنِی إِلَى اللهِ (یوسف:۸۷) یہ دعا یہاں بھی بہت زور کے ساتھ صادق آتی ہے۔ایسا شخص جو اپنے آپ کو خدا کی خاطر پیش کئے ہوئے ہے اگر دنیا کی ہمدردی سے اس لئے باز رہتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ ان لوگوں کے دین کو نقصان نہ پہنچ جائے تو ایسا شخص لاز مأخدا کی طرف جھکے گا اور اس کا دنیا سے تبتل ہوگا اور تعلق کا قدم اللہ کی طرف آگے بڑھے گا۔پس تبتل کا مضمون بہت ہی باریک مضمون ہے۔بڑی لطافت کے ساتھ ، گہری نظر کے ساتھ اتر کر دیکھنا پڑتا ہے۔مثالیں سامنے رکھ کر ان پر غور کریں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کس طرح بار بار آپ نے اللہ سے تبتل کیا ہے اور غیر اللہ کی طرف جھک گئے ہیں۔جب ہمیشہ دین غالب رہے گا اور دین کے مفادات غالب رہیں گے تو سچا مظلوم بھی دین سے بددل کرنے کے خیال سے ایسی نفرت کرے گا جیسے اس کو آگ میں پھینکا جارہا ہو۔وہ اپنی ذات میں ان باتوں کو دبا جائے گا تا کہ خدانخواستہ کوئی اور بھی ہلاک نہ ہو جائے۔ایسا شخص پھر ہلاک نہیں ہوا کرتا جو دوسروں کی ہلاکت کا موجب نہ بنے وہ خود کبھی ہلاک نہیں کیا جاتا۔جو دوسروں کو ہلاکت سے بچانے کیلئے اپنے نفس پر ایک ہلاکت طاری کر لیتا ہے اللہ کے فضل کا ہاتھ ضرور اس کی طرف بڑھتا ہے اور اسے ضرور اٹھاتا ہے اور بلند مقامات کی طرف لے کر جاتا ہے۔مگر دنیا کی ہمدردیاں لینے کی خاطر دنیا سے اپنے دکھ پھولنے والے نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے بہت لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں اور بہت بہت ابتلا اور فتنے بنتے ہیں اور جب ان کو سمجھایا جائے تو کہتے ہیں کہ واقعہ درست ہے۔میں درست واقعات کی بات کر رہا ہوں۔جھوٹ کی بات نہیں کر رہا، بہتان کی بات نہیں کر رہا۔جھوٹ اور بہتان باندھ کر دین اور دین والوں سے متنفر کرنا تو بہت بڑا گناہ ہے اور بہت بڑے عذاب کا تقاضا کرتا ہے۔میں نفس کے دھوکے میں مبتلا ہونے والوں کی بات کر رہا ہوں جو سچ دیکھتے ہیں، واقعہ