خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 798
خطبات طاہر جلد ۱۲ 798 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء خواہش تو ہے کہ یہ چیز مل جائے گناہ نہیں ہے لیکن آخرت کے تصور کے بعد پھر انسان یہ بھی کہتا ہے کہ میری خواہش تو ہے مگر نہ ملے تو کوئی بات نہیں۔اللہ ملے تو بہت ہے اللہ کی رضا چاہیئے اگر رضا کے مطابق ہے تو ملے ورنہ نہ ملے۔یہ بھی ایک قسم کا تل ہے۔یعنی دنیا سے تعلق رکھنے کے باوجود بے تعلقی کا ایک ایسا انداز جو انسان کو غنی کر دے، بے پروا کر دے، ہو جائے تو ٹھیک ہے نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اللہ راضی رہے یہ وہ مقام ہے جہاں سے پھر خدا کی طرف حرکت مثبت طور پر شروع ہو جاتی ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسا متوازن بیان فرمایا ہے کہ۔۔۔وہ شخص جو دنیا کی لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف وو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے، جو شخص در حقیقت 66 دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا۔وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔ہرایسا موقع جہاں دین کا ایک مفاد ہو اور اس کے مقابل پر دنیا کا کوئی مفاد ہو وہاں انسان باریک نظر سے غور کرے کہ دین کے مفاد کو ترجیح دے گا یا دنیا کے مفاد کو ترجیح دے گا۔یہ بہت ہی مشکل مضمون ہے کیونکہ بڑے بڑے سمجھدار اور بڑے بڑے عالم لوگ بھی اس مضمون پر ضرور ٹھوکر کھا جاتے ہیں کیونکہ ہمیشہ کے لئے ایک گہری نظر کے ساتھ اپنے نفس کے محاسبے کی عادت ڈالنا حقیقت کو پانے کے لئے ضروری ہے۔بعض دفعہ بعض ایسے لوگ جنہوں نے زندگیاں وقف کی ہوئی ہوتی ہیں ان کے افسران کی طرف سے ان سے کوئی سختی کا معاملہ کیا جاتا ہے یا جس جگہ ان کی تقرری ہوئی ہوتی ہے ان کی بے اعتنائی کی وجہ سے وہ دل برداشتہ ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں جب وہ ایسے لوگوں سے نظام کے متعلق باتیں کرتے ہیں جن کا نظام کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں ہے وہ اپنے دل کے دکھ ان کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس طرح کچھ تسکین پاتے ہیں۔تو وہ اس وقت یہ نہیں سوچ رہے ہوتے کہ ہم نے دین کو دنیا پر نہیں بلکہ دنیا کو دین پر مقدم کر لیا ہے کیونکہ جب کسی شخص کے سامنے ایک ایسی بات بیان کی جائے جس کے نتیجہ میں ان لوگوں کے متعلق برا اثر پڑے جو دین کو چلانے پر مامور کئے گئے ہیں تو لازماً اسی حد تک دین سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے انسان کے دل میں دین کا احترام اٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان دین اور دین والوں سے دل برداشتہ ہونے لگتا ہے لیکن اس کے مقابل پر جو شخص بیان کر رہا ہے اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے، اس سے تعلق بڑھتا ہے۔