خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 795
خطبات طاہر جلد ۱۲ 795 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو جی ! بڑی دعا کرتے ہیں لیکن بدیاں چھٹ نہیں رہیں۔جھوٹ کی عادت ہے مصیبت ہے بار بار چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر مبتلا ہوجاتے ہیں وہ اپنے نفس پر غور کریں ان کو وہاں جواب ملے گا کہ وہ اس سے بچنا نہیں چاہتے وہ ادنیٰ حالتوں سے بچنے کی خواہش رکھتے بھی ہوں تب بھی جب وہ بڑے مقامات پر غور کر کے دیکھیں گے تو اگر وہ بچے ہیں تو ان کا دل ان کو بتا دے گا کہ تم فلاں جگہ جا کر جھوٹ سے پر ہیز کی طاقت نہیں رکھتے۔اس وقت انسان اپنے ضمیر کو جھنجھوڑے اور فیصلہ کرے کہ میں جو دعا کے لئے ہاتھ پھیلا رہا ہوں اور میرا دل مجھے کسی اور طرف لے کر جارہا ہے یہ کونسی دعا ہے۔اس میں کوئی سچائی نہیں وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ( فاطر : 11) وه عمل صالح جو دعا کو قوت بخشتا ہے اور کلام کو اونچا کرتا ہے وہ پہلا عمل یہ نیت کا عمل ہے۔اپنے اندرونے کو قطعی طور پر اپنے سامنے رکھ کر انصاف اور تقویٰ سے فیصلہ کریں کہ آپ اس بدی کو چھوڑنا چاہتے ہیں کہ نہیں چاہتے اور پھر دعا کریں پھر دیکھیں وہ دعا کس طرح قبول ہوتی ہے۔کوئی تیر ایسا نشانے پر نہیں لگ سکتا جس طرح اس شخص کی دعا لگتی ہے جو اپنے نفس کو صاف اور ستھرا کر کے کلیۂ خدا کے لئے ہو کہ اللہ ہو کر قبلہ رخ ہو جائے اور اپنا رخ خدا کی طرف پھیر دے اور پھر یہ کہے کہ اے خدا! میں تیرا ہو چکا ہوں مگر میں مجبور ہوں میں خوفزدہ ہوں کہ کہیں غیر مجھے اچک نہ لے غیر مجھے اپنا نہ لے، یہ دعا جب آپ کریں گے تو ہو نہیں سکتا کہ وہ نا مقبول ہو کبھی ایسی دعا نا مقبول نہیں ہوئی ،حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وو۔۔۔اور فریب کو نہیں چھوڑ تا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔“ کتنے ہیں جو فریب دہی سے کلیہ پاک ہیں ہر حالت میں ، ہر مشکل کے وقت انسان کا دماغ فریب کی طرف ضرور جاتا ہے۔ایک ٹیکس کی چوری ہے ایک تجارت کے معاملہ میں نفع کی تمنا ہے۔ایک مکان بیچنے کی خواہش ہے ایک لڑکی جو بیمار ہے اس کی شادی کرنے کی تمنا ہے۔ہرایسی حالت میں جس میں انسان کی زندگی روز مرہ آزمائشوں میں پڑتی ہے وہاں آپ کو فریب کا ایک درندہ چھپا ہوا دکھائی دے گا ہرایسے گوشے میں وہ ”پلنگ“ ہے۔جن کا میں نے پچھلی دفعہ ذکر کیا تھا کہ شه ماید که پلنگ خفته باشد غور کرنا یہاں حملہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی چیتا تیار بیٹھا ہے اور وہاں دماغ ضرور فریب کی طرف مائل ہوتا ہے۔یہ خیال کہ وہ اس طرف جاتا نہیں ہے۔یہ درست نہیں ہے۔نیک کا