خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد ۱۲ 794 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء سکتے ہیں اور ان کے دل میں کوئی خدشہ نہیں ہوگا کہ اوہو! میں تو یہاں بھی مارا جارہا ہوں، یہاں بھی مارا جارہا ہوں اور یہاں بھی مارا جارہا ہوں۔میں اس تحریر کے چند نمونے محض اندازہ لگانے کی خاطر آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ لگانے میں آسانی ہو کہ تبتل ہے کیا اور کس حد تک آپ ان پہلوؤں میں تجبل اختیار کر چکے ہیں فرمایا۔یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ۔خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے۔اس سے بچو۔۔۔“ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنی محاورہ ہی اختیار فرمایا ہے بچنے کوموت نہیں کہا بلکہ زندگی کہا ہے۔دوسرے معنوں میں وہ بھی کہا جاسکتا ہے یہ غلط نہیں مگر میں بتا رہا ہوں کہ یہاں بعینہ زندگی کی طرف بلانے کے لئے نافرمانی کو موت قرار دیا ہے۔وو۔۔۔دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔66 کتنے ہیں جو آسانی سے جھوٹ چھوڑ سکتے ہیں؟ یہ سوال ہے جو میں نے پہلے اٹھایا تھا اس کی مثال دے رہا ہوں بکثرت لوگ جھوٹ کی کسی نہ کسی عادت میں مبتلا ہیں، کوئی بڑا جھوٹ بولتا ہے کوئی چھوٹا جھوٹ بولتا ہے، کوئی روزمرہ جھوٹ بولتا ہے، کوئی اس وقت جھوٹ بولتا ہے جب بچنے کا کوئی اور ذریعہ دکھائی نہ دے اور جھوٹ کے سوا کوئی اور سہارا دکھائی نہ دے، کوئی معمولی ابتلاؤں میں جھوٹ بولتا ہے، کوئی انتظار کرتا ہے اور جب کوئی بہت بڑا ابتلا آ جائے تو وہاں جھوٹ بولتا ہے۔یہ سارے پھسلنے کے مقامات ہیں اور ہر حالت میں جھوٹ سے پر ہیز یہ تبتل ہے اس کی تمنا پیدا ہو جائے اور پھر انسان یہ فیصلہ کر کے دعا کرے کہ میں نے جھوٹ نہیں بولنا اور اس کے نتیجہ میں ہر قسم کے بدنتائج قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔یہ یوسفی دعا بنے گی اس کے سوا اس دعا کی کوئی اہمیت نہیں۔پس جو