خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 791
خطبات طاہر جلد ۱۲ 791 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء میں ڈال دے۔اس مضمون پر غور کرنے سے کچھ اور باتیں سامنے آتی ہیں۔اول یہ کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا اس وقت کی دعا ہے جبکہ ان کی شرارت بڑھتے بڑھتے ایک ایسی سازش میں تبدیل ہو چکی تھی جس کے نتیجہ میں آپ کو جیل سامنے دکھائی دے رہی تھی اور جانتے تھے کہ انہوں نے مجرم بنا کر مجھے جیل خانے بھجوادینا ہے۔یہ ایک احتمال تھا۔اس احتمال کی صورت میں آپ نے اپنے دل کو ٹولا ایک طرف وہ کشش تھی جو ایک طبعی کشش تھی اور دوسری طرف خوف حائل تھا کہ اگر میں اس گناہ میں مبتلا نہ ہوا تو پھر یہ سزا ملے گی۔ان دونوں متفرق سمتوں کے دباؤ کے نیچے آکر پھر دل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں بچنا چاہتا ہوں اس وقت کی دعا نا مقبول ہو ہی نہیں سکتی۔پس وہ لوگ جو تبتل چاہتے ہیں ان کے لئے یہ ایک عظیم مثال ہے۔تبتل سے پہلے نفس کا تل ہوناضروری ہے ورنہ ظاہری تبتل ممکن نہیں ہے اور جہاں تک دوسری حکمتوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ اے میرے بندے! تو قربانی کے لئے تیار ہے میں تجھے جیل سے بھی بچاتا ہوں لیکن بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اس بدی کے پیچھے ایک بہت بڑا حسن پوشیدہ تھا۔جیل میں جانے سے ہی ترقیات کے وہ تمام دروازے کھلے ہیں جن کے متعلق ویسے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔لیکن اس مشکل کے رستے سے اللہ تعالیٰ نے فراخی کے رستے کھول دئے اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو اس عظیم مقام تک پہنچایا جہاں پہنچانا مقدر تھا لیکن حضرت یوسف کی دعا اس میں مددگار بن گئی۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مثالیں محفوظ فرمائی ہیں ان کی دنیا پر آپ غور کر کے دیکھیں انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔عظیم کلام ہے جس کے اندر اپنی سی ایک دنیا ہے، اپنے قانون چل رہے ہیں اور ایک بات کو دوسری بات سے گہرا ربط ہے۔پس تبتل کا مضمون ہم پر ظاہر ہو گیا کہ اگر تبتل کرنا ہے تو تبتل بہت مشکل کام ہے۔مرنے سے بھی زیادہ خطر ناک ہے کیونکہ انسان جس چیز سے چمٹارہتا ہے اس سے علیحد گی عملاً موت دکھائی دیتی ہے۔پس یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جہاں زندگی کی ہر تمناموت دکھائی دے رہی ہے۔ایک دفعہ کا مرنا نہیں ہے۔بار بار کا مرنا ہے لیکن زندہ ہونے کی خاطر اور زندہ ہونے کی تمنا کے رستے میں یہ باتیں روک ہیں۔تو تمنا ہی نہیں اٹھتی۔یہ تمنادعا سے اٹھ سکتی ہے دعا کے نتیجے میں بیدار ہوسکتی ہے ورنہ سوئی پڑی رہے گی۔اس حصے کی طرف میں بعد میں آؤں گا پہلے میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ تبتل کہاں