خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 790
خطبات طاہر جلد ۱۲ 790 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء اربوں دنیا میں ہو رہے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو چاہتے ہوں گے کہ اس بدی میں مبتلا نہ ہوں جس بدی کی طرف ان کو بلایا جاتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ بدی ہے لیکن بے اختیار ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں، بے اختیار ہیں ہم کوشش تو کرتے ہیں مگر چھٹکارا نصیب نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے اس نفسیاتی بیماری کو خوب کھول کر ایک مثال کی صورت پیش فرما دیا۔فرمایا ایک یوسف بھی تو تھا جس کے پیچھے ایک ایسی عورت پڑی تھی جس میں خود ذاتی طور پر رعنائیاں تھیں، حسن کا کمال تھا، جذب تھا اور یہی مضمون ہے جس کی طرف اس میں اشارہ ملتا ہے کہ اس نے بھی ارادہ کیا اور اس نے بھی ارادہ کیا یا خواہش کی۔حضرت یوسف کے متعلق فرمایا کہ خواہش کی یا کر لیتے اگر اللہ تعالیٰ یہ نہ کر دیتا۔تو حضرت یوسف کی خواہش کے متعلق یہ شرط پیش کر دی کہ خواہش ہوسکتی تھی۔بھاری امکان تھا طبعی تقاضے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو گیا۔میں نے جو یہ کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ زلیخا کو ایک خوبصورت، دلکش عورت کے طور پر پیش کرتا ہے۔اس کا استنباط اسی سے ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے دل میں اس کی طرف جھکنے کا طبعی طور پر امکان موجود تھا اور بڑا قوی امکان موجود تھا۔اتنا قوی کہ جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ گویا ارادہ کر لیا لیکن اللہ کا فضل حائل ہوا اور اللہ کے فضل نے حضرت یوسف کو اس ظلم کا شکار ہونے سے بچالیا۔وہ کیوں ہوا؟ اس مضمون کو کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے ایک دعا کی۔پہلے اپنے نفس پر غور کیا اور غور کرنے کے بعد یہ دعا کی کہ اے خدا! جس طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں میں نفس کے تجزیہ کے بعد اس یقین تک پہنچا ہوں کہ مجھے قید ہونا زیادہ محبوب ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس بدی کا شکار ہو جاؤں۔اس سے یہ مزید استنباط بھی ہوتا ہے کہ یہ ترجمہ کرنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے ارادہ کر لیا تھا۔مراد یہ ہے کہ ارادے کے تمام محرکات موجود تھے۔اگر خدا کا خاص فضل اس شخص پر نازل نہ ہوا ہوتا اور اللہ کی خاص قدرت نے اس کو پاک نہ کیا ہوتا تو وہ ضرور ارادہ کر لیتا لیکن یہ دعا حائل ہوگئی ہے اور یہ دعا بتاتی ہے کہ ارادہ نہیں تھا کیونکہ فرماتے ہیں کہ مجھے تو قید ہونا زیادہ منظور ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگی جائے کہ اے اللہ مجھے قید زیادہ منظور ہے عام حالات میں تو انسان کہتا ہے کہ اے اللہ مجھے بچالے۔یہ کیوں مطالبہ کرے کہ مجھے ایک اور مشکل