خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 776
خطبات طاہر جلد ۱۲ 776 خطبه جمعه ۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء مِنَ الْمَيِّتِ وہ مردوں سے زندہ پیدا کر دیتا ہے۔یہ خوش خبری کی بات ہے انسان کہتا ہے الحمد للہ۔مردوں سے زندہ پیدا ہوں گے لیکن معا ساتھ ہی فرما دیا کہ وَيُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَيِّ وہ پھر زندوں سے مردے بھی پیدا کر دیتا ہے۔یہ ایک خوف کا مقام ہے لیکن بات یہاں ٹھہر نہیں گئی۔پھر فرمایا۔وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وہ زمین کو اس کی موت کے بعد پھر زندہ کر دیتا ہے۔وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ تم اسی طرح زمین سے نکالے جاؤ گے یا ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف نکالے جاؤ گے۔یہ مضمون ظاہری طور پر تو پورا ہوتا ہوا ہمیں دکھائی دیتا ہے۔اس میں کسی سائنس دان کی گواہی کی ضرورت نہیں۔ہر انسان دیکھتا ہے جانتا ہے کہ مردوں سے زندہ نکل رہے ہیں۔اس کے کئی قسم کے مطالب ہیں۔ایک مطلب یہ ہے کہ ایک نسل مرجاتی ہے اور دنیا سے تعلق کاٹ کر الگ ہو چکی ہوتی ہے۔اس نسل کے بعد اس نسل کو زندہ رکھنے کے لئے انہی میں سے زندہ لوگ پیدا ہوتے ہیں جو دراصل ان کو زندگی بخش رہے ہوتے ہیں یعنی پہلی نسل کے لوگ جو مر گئے ان کے بعد آنے والی نسلیں در اصل انہی مردوں کی زندگی کا نشان بنتی ہیں اور انہی کی زندگی کو جاری رکھنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں لیکن ان زندوں سے پھر مردے بن جاتے ہیں۔تو اس میں ایک نصیحت تو یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کسی چیز کو بقا نہیں ہے۔تم اگر آج زندہ ہو تو کل مر بھی جاؤ گے، اگر آج مری ہوئی تو میں ہو تو کل زندہ بھی ہو جاؤ گے۔پس یہ مضمون ایک اور پہلو سے ہمارے سامنے کئی نصیحتیں لے کر آتا ہے۔قوموں کے عروج و زوال اور زوال وعروج کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتا ہے۔وہ لوگ جو ایک خاص قسم کی مردنی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے مقابل پر طاقتور تو میں ان پر سوار ہیں اور ان پر غالب آچکی ہیں۔یہ آیت ان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دیکھو! گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ زندوں کو کچھ عرصہ زندگی کا موقع دیتا ہے اور ان کو آزماتا ہے۔ان کو آزمائش کے دور سے گزارتا ہے اور پھر وہ اس اکھاڑے سے نکل جاتے ہیں ، ان کا دنگل ختم۔ان کے بدلے پھر اور لوگ آیا کرتے ہیں۔آج تم مردہ ہو تو کل زندہ بھی ہو سکتے ہو، آج جو زندہ ہیں اگر وہ اتر ائیں گے اور اس امتحان پر پورا نہیں اتریں گے تو کل وہ مر بھی سکتے ہیں بلکہ ضرور مریں گے۔تو یہ جو عرصہ حیات ہے اس کی آزمائشوں کا ذکر اس مضمون میں آجاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور پھر زمین کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ