خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد ۱۲ 775 خطبه جمعه ۱٫۸ کتوبر ۱۹۹۳ء واقعات میں ڈھل سکتا ہے اور ان واقعات کے تعلق میں انسان اللہ تعالیٰ کو برائیوں سے پاک دیکھ سکتا ہے اگر دیکھنا چا ہے تو۔پس جب وقت بدل رہا ہو۔حالات بدل رہے ہوں تو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کی تسبیح کا مضمون ضرور دل میں اٹھتا ہے۔لیکن اس مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وہ صرف بدیوں سے پاک نہیں ہے۔بدیوں سے پاک دیکھو گے تو تمہیں اس میں حمد دکھائی دینے لگے گی جو ایک مثبت مضمون ہے۔جو بدی نہیں ہے اس کے بدلے ایک بہت عظیم الشان حسن موجود ہے۔محض بدیوں سے پاک قرار دینا کامل تعریف نہیں ہے بلکہ ہر بدی جس سے کوئی چیز پاک ہوتی ہے اس کے مقابل پر اسے ایک خوبی اپنانی پڑے گی ورنہ وہ وجود نامکمل رہے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم جب کہتے ہیں کہ وہ شام کے وقت بھی تمہیں پاک دکھائی دے گا اور صبح کے وقت بھی پاک دکھائی دے گا تو مراد یہ نہیں ہے کہ وہ صرف بدیوں سے پاک ہے۔اس کے لئے تو حد ہی حمد ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔کائنات کا کوئی ذرہ، کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں خدا کی حمد کا مضمون دکھائی نہ دے رہا ہو۔پھر پہلے مضمون کو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ کہ تم جب دن سے شام میں داخل ہوتے ہو اور اس کے بعد رات آجاتی ہے تو عَشِيًّا سے مراد وہ رات ہے اور رات سے دن میں داخل ہوتے ہو تو پھر وہ دو پہر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔پس جب تم رات میں داخل ہو کر رات گزار رہے ہوتے ہو یا دن میں داخل ہونے کے بعد دن کے عروج تک پہنچتے ہو۔پس اندھیروں کا بھی ایک عروج ہے جس کا عَشِيًّا میں ذکر فرمایا گیا اور روشنی کا بھی ایک عروج ہے جس کا تُظهِرُونَ میں ذکر فرمایا گیا۔ظہر کے وقت جب سورج سر پر چڑھتا ہے اور اس کے بعد بہت عرصہ تک اس کی تمازت اپنی پوری قوت سے جلوہ دکھا رہی ہوتی ہے۔فرمایا اس وقت بھی تم خدا کو ہر کمزوری، ہر برائی سے پاک دیکھو گے۔يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَقِّ وہ زندوں سے مردے پیدا کرتا ہے، زندوں کو مردہ بنادیتا ہے۔يُخرِ حج کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے نکالتا ہے۔يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيَّتِ زندوں سے مردوں کو نکالتا ہے۔وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَقِّ مردوں سے زندوں کو نکالتا ہے۔یہاں تک جب ہم پہنچتے ہیں تو یہ مضمون تھوڑے سے خدشات کا پہلو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔پہلے فرمایا۔يُخْرِ محِ الْحَى