خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 768
خطبات طاہر جلد ۱۲ 768 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۹۳ء جو آج شروع ہو رہے ہیں یا اس وقت پہلے سے جاری ہیں اور کچھ دن تک جاری رہیں گے۔جو نام لینے سے رہ گئے تھے ان میں سے ایک مجلس خدام الاحمدیہ ضلع جہلم کا سالانہ اجتماع جو ۳۰ ستمبر سے یکم اکتوبر تک منعقد ہوا۔اس مجلس میں بہت سی ایسی مجالس ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کام کی بہت بڑی صلاحیتیں بخشی ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا وہ تعلق نہیں جو مومنانہ اخوت کے نتیجہ میں پیدا ہونا چاہئے اس کی وجہ سے ان کی ساری صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔لمبے عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزار دفعہ سمجھانے کی کوشش کی مختلف لوگ گئے لیکن ان کا حال وہی ہے کہ سر پیچ کا کہایا بچوں کا کہا سر آنکھوں پر لیکن پر نالہ وہیں رہے گا، وہاں سے نہیں ہلے گا جہاں لگ گیا پر نالہ وہیں لگا رہے گا۔اس پر نالے سے رحمت کا پانی بھی برس سکتا ہے اور عذاب کا پانی بھی برس سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اگر پر نالہ نہیں بدلنا تو پانی تو بدلیں۔اس سے خدا کے غضب کا پانی تو قبول نہ کریں مگر پتا نہیں وہ کون سی زبان استعمال ہوگی کہ وہ سمجھیں گے اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت واخوت کا تعلق قائم کریں گے۔ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ میں درست ہوں اور ساری شرارت دوسرے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔شکایت بازی کا سلسلہ ہے جولا متناہی ، چل سو چل اور ختم ہی نہیں ہورہا۔ان کے حوالے سے میں جہلم کی جماعت کو عموماً بھی اور باقی سب مجالس کو اور جماعتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اجتماعات تو جامعیت کا نشان ہوتے ہیں، اکٹھا کرنے کی ایک مثال ہوتے ہیں۔اگر ا کٹھے ہوں اور دل ایک دوسرے سے دور ہوں تو ایسے اکٹھے ہونے کا کوئی بھی فائدہ نہیں، خدا تعالیٰ کے نزدیک جہاں دل نہ ملے ہوں وہاں کی جمیعت اکٹھا کرنے کی بجائے تفریق کا موجب بنا کرتی ہے۔پس ایسے جن کے دل نہ ملے ہوں وہ جتنا اکٹھے ہوں گے دشمنیاں اور بڑھیں گی اور ایک دوسرے پر اعتراض کے مواقع ہاتھ آئیں گے کہ دیکھ لو جی ! فلاں عہد یدار، اس نے یہ کیا اور یہ نہیں کیا ہمارے آدمی کو ووٹ نہیں ملے وہ ہوتا تو یوں ہوتا۔شیطان کے سو قسم کے وسوسے ہیں جو پھر دل میں راہ پا جاتے ہیں اور اجتماع تفریق کا نشان بن جاتا ہے۔اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں اور بار بار نصیحت کرتا ہوں کہ یہ دن اکٹھے ہونے کے ہیں، ہم نے خود ہی اکٹھے نہیں ہونا ، تمام جہان کو اکٹھے کرنا ہے، اس لئے یہ چھوٹی چھوٹی گھٹیا کمپنی باتیں زیب نہیں دیتیں، اگر باز نہیں آؤ گے تو پھر خدا تم سے دوسرا سلوک کرے گا۔پھر بندے کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے وہ ایک طرف رہ جاتا ہے، پھر نظام جماعت کارفرما نہیں رہے گا