خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد ۱۲ 723 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء تک کہ تمہارا پیار ان کے دل میں پیدا ہو جائے پھر ان کو چار سمتوں میں مختلف پہاڑیوں پر چھوڑ دو پھر ان کو آواز دو، دیکھو کس طرح وہ لپکتے ہوئے اڑتے ہوئے تمہاری طرف آتے ہیں۔تو سعید روحوں کو بلانے کے لئے یہی ڈھنگ ہے کہ پہلے آپ ان کو سینے سے لگائیں اور پھر ان کو تبلیغ پر مامور کر دیں، جتنا تبلیغ کریں گے اتنا ہی وہ آپ کے زیادہ قریب ہوتے چلے جائیں گے چاروں سمت دنیا میں پھیل جائیں گے اور زندگی کا وہی پیغام دوسروں کو عطا کرنے لگ جائیں گے وہ زندگی جو آپ کی وساطت سے ان کو عطا ہوئی ہے وہ غیروں کو عطا کریں گے اور رہیں گے ہمیشہ آپ کے غیر کے نہیں ہوں گے۔کیسا عظیم نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا کہ چاروں سمت میں پھیل جانے والے وجود تمہارے ہی رہیں گے غیروں کے نہیں ہو سکیں گے کیونکہ وہ تم سے زندگی پا کر لوگوں کو زندگی دینے کے لئے تو نکلے ہیں۔یہ مضمون اس لئے اس میں شامل ہے کہ سوال ہی یہی تھا رَبِّ اَرِنِى كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سوال گندم اور جواب جو اللہ تعالیٰ ہے جواب دینے والا اس کے جواب میں لازماً سوال پیش نظر رہتا ہے۔پس سوال تو یہ ہے کہ زندہ کیسے کرتا ہے؟ خدا فرماتا ہے پرندے پکڑو اپنے ساتھ مانوس کرو اوران کو بھجوا دو۔کس لئے بھجواؤ ؟ زندگی کا پیغام پہنچانے کے لئے اور پھر جو تم سے زندگی پائیں گے وہ زندہ رہیں گے، موت سے ٹکرائیں گے لیکن موت ان پر غالب نہیں آئے گی اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب تم ان کو پکارو گے تو اڑتے ہوئے تمہاری طرف چلے آئیں گے۔پس ایسے پیغامبر دنیا میں بھیجو جن کے ساتھ تمہارا پیار تمہارا تعلق ان کے ایمان کو تقویت عطا کر چکا ہو ان کے ایمان کو مستقل بنا چکا ہو پھر ان سے تبلیغ کا کام لو پھر دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ ہر طرف زندگی عطا کرتا ہے اور مردوں میں سے زندگی نکالتا ہے۔یہ جو سلسلہ ہے یہ بڑے زور اور بڑی شان کے ساتھ افریقہ میں ظاہر ہو چکا ہے ، چل پڑا ہے، تیز قدموں کے ساتھ آگے روانہ ہو چکا ہے اور دن بدن اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور وسعت اثر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔یورپ کو میں نے متوجہ کیا تھا کہ تم کیا انتظار کر رہے ہو، تم بھی آگے بڑھو، یہ بھی تو آخر انسان ہیں، یہ بھی تو زندگی کے پیاسے ہیں ، زندگی کے محتاج ہیں۔امـــــر بالمعروف کا ان کا بھی تو حق ہے، نھی عن المنکر کے یہ بھی تو ضرورتمند ہیں لیکن کم لوگوں نے توجہ دی ہے مگر جنہوں نے توجہ دی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر یہی