خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد ۱۲ 716 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء لانے والوں میں سے ہوتے تو ان کے امر بالمعروف اور ان کی نھی عن المنکر میں ایک نئی شان نئی جلا پیدا ہو جاتی لگان خَيْرًا لَّهُمْ کے لئے بہتر یہ ہوتا۔پس دیکھیں کہ آیت کا آغاز خیر کے لفظ سے ہوا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ اور خیر کی اعلیٰ مثال ایمان کو بیان فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اچھی اچھی باتیں بیان کرنے کے بعد جب اہل کتاب کا ذکر فرمایا تو یہ فرمایا وَ لَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ پس خیر کی تعریف ہی دراصل ایمان ہے اور ایمان سے پہلے کی حالتیں خیر کی ذیل میں آتی ہیں۔مگر ادنی شعبے ہیں اعلیٰ شعبہ نہیں۔اعلیٰ شعبہ ایمان باللہ ہے اور ایمان کے نتیجے میں امر بالمعروف میں بھی ایک نئی شان پیدا ہو جاتی ہے اور اعتماد پیدا ہو جاتا ہے اور نھی عن المنکر یعنی بری چیزوں سے روکنے میں بھی ایک شان پیدا ہو جاتی ہے اور ایک اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔شان ان معنوں میں کہ زیادہ بہتر رنگ میں اچھی باتوں کا حکم دینے کی انسان اہلیت اختیار کر جاتا ہے۔اپنی عقل سے اگر انسان اچھی باتوں کا حکم دے تو کئی جگہ اس کی عقل ٹھو کر کھا سکتی ہے جس کو وہ بعض دفعہ اچھا سمجھتا ہے وہ اچھا ہوتا نہیں۔بعض دفعہ وہ اپنے قومی نقطہ نگاہ سے کسی چیز کو اچھا سمجھ رہا ہے مگر دوسری قوموں کے نقطہ نگاہ سے وہ اچھی نہیں ہوتی لیکن صاحب ایمان کی بھلائی کی تعریف ایک ہی رہتی ہے۔وہ اللہ کے حوالے سے سوچتا ہے اس لئے صاحب ایمان جس کو بہتر سمجھتا ہے وہ اسی کو بہتر سمجھتا ہے جو اس کے نزدیک خدا کو پسند ہو۔پس اللہ کے حوالے سے جب بھلائی اور برائی کی تعریف کی جائے تو سب سے زیادہ قابل اعتماد بن جاتی ہے اور اس میں جلا بھی پیدا ہو جاتا ہے اور اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔ان معنوں میں فرمایا که وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہت بہتر تھا ان کی اچھی باتیں مزید چمک اٹھتیں۔ان کی بری باتیں حقیقتا بری ہو کر دنیا کو دکھائی دینے لگتیں کیونکہ ان کے کہنے سے ضروری نہیں کہ کوئی بری بات دنیا کو بھی بری لگے بلکہ اگر وہ صاحب ایمان ہوں اور اللہ کے حوالے سے بات کریں تو پھر جو بات اہل ایمان کو دنیا کے ایک ملک میں بری لگتی ہے وہ دنیا کے دوسرے انسانوں کو بھی بری لگتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ انسان اور انسان میں تفریق نہیں کرتا۔اس مضمون کو آج آپ کے سامنے خصوصیت سے اس لئے رکھ رہا ہوں کہ ہمارا