خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد ۱۲ 715 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء ہے کہ قرآن کریم کا ذوق ایسا بڑھا اور اس کا ایسا چسکا پڑا کہ قرآن کریم نے ہر دوسرے ذوق کو مٹا دیا۔پر تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کی یہ وہی الہی ترتیب ہے جو اسلام کے نظام میں ہر جگہ آپ کو جاری وساری دکھائی دے گی۔پس اس پہلو سے فرماتا ہے کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تم بہترین ہو اس لئے نہیں کہ تم بدیاں مٹاتے ہو اور نظام فرسودہ اور نظام کہن کو ملیا میٹ کر دیتے ہو بلکہ اس لئے کہ تم بہتر نظام لے کر آتے ہو۔ہر بری چیز کا ایک بہتر متبادل پیش کرتے ہو اور وہ پیش کرنے کے بعد پھر ادنی چیزوں سے لوگوں کی توجہ ہٹاتے ہو کہ اس اعلیٰ کو چھوڑ کر کیوں اس ادنیٰ میں اٹکے رہو گے۔یہی وہ طریق ہے جس سے نصیحت میں اثر پیدا ہو جاتا ہے، نصیحت میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔خالم خولی کسی چیز کو چھوڑنے کا حکم نہیں بلکہ پہلے بہتر چیز دیتے ہو اور پھر دوسری چیز چھڑاتے ہو۔آج کل اطباء کا بھی اسی طرف رجحان ہے کہ کوئی بد عادت چھڑانے سے پہلے اس کا کوئی متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی عادت ڈالو تو پھر جو بد عادت ہے وہ بھی آہستہ آہستہ چھٹ جائے گی چنانچہ آج کل اس قسم کے اشتہار ٹیلی ویژن وغیرہ پر عام آتے ہیں کہ فلاں چیز چھوڑنی ہے تو اس کے بدلے میں ہم یہ چیز دیتے ہیں یہ شروع کرو گے تو اس کے اثر کے تابع تمہاری بری چیز کی خواہش ہی مٹ جائے گی۔اس کے بعد فرمایاوَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ او تم پھر اللہ پر ایمان لاتے ہو اس لئے نہیں کہ ایمان باللہ سب سے آخری چیز ہے بلکہ اس لئے کہ مومنوں کو غیر مومنوں سے ممتاز کر رہا ہے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اور وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ میں تو مومن غیر مومن سارے شامل ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے تُؤْمِنُونَ بِاللهِ کہہ کر دو باتوں کی طرف خصوصیت سے ہمیں متوجہ فرمایا۔فرمایاامر بالمعروف اور نھی عن المنکر ایمان کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔مگر ایمان کے ساتھ ہو تو پھر اس کی اور ہی شان ہے۔صاحب ایمان لوگوں کا امر بالمعروف اور صاحب ایمان لوگوں کا نهي عن المنكر ان لوگوں سے بہت بہتر ہوتا ہے جو ایمان سے خالی ہوں۔اس پہلو سے ہمیں متوجہ فرمایا گیا کہ دیکھو اہل کتاب میں بھی یہ باتیں موجود ہیں لیکن ایک چیز کی کمی ہے ان میں بھاری اکثریت بے ایمانوں کی ہے جن کو کوئی ایمان نہیں معمولی ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔پس کاش وہ ایمان