خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد ۱۲ 702 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء سلطان القلم قرار دے دے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کو غور سے پڑھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ ایسا سلطان القلم ہے کہ اس کی تحریر کو سمجھنے کے لئے بھی انسان کو غیر معمولی توجہ، محنت اور اپنی نظر اور دل کو صیقل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔فرماتے ہیں: ” خدا جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا۔اس نے تمام انبیاء اور تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی۔“ تو حید کا دعویٰ کافی نہیں ہے۔توحید کے لئے خدمات جود نیا کو دکھائی دیتی ہیں۔وہ بھی کافی نہیں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ تو حید دل کے اندر کتنی گہرائی سے پھوٹی ہے اور توحید کے نتیجے میں انسان کا وجود کہاں تک متاثر ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جو خدا نے سب انبیاء پر اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ آپ کے دل کے رازوں کی گہرائی سے واقف تھا اور ان کی کہنہ تک خدا کی نظر تھی۔جانتا تھا کہ تو حید کبھی کسی کے دل میں اس گہرائی کے ساتھ پیوستہ نہیں ہوئی اور اس طرح کسی کا دل کبھی خدا کی محبت میں خالص نہیں ہوا جیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو توفیق ملی پس دل پر نگاہ کر کے آپ کو فضیلت بخشی گئی محض ظاہری کاموں کو دیکھ کر نہیں۔پھر فرماتے ہیں: (جب فضیلت بخشی تو کیا ہوا اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے۔۔۔جب خدا نے ساری فیض کی کنجیاں محمد رسول اللہ ﷺ کو تھما دیں تو محمد رسول اللہ سے تعلق توڑ کر کسی اور سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرنا غیر اللہ سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے مترادف ہے۔یہ لفظ بہت سخت ہے، وہ ذریت شیطان ہے، لیکن جب آپ اس مضمون کو گہرائی میں اتر کر دیکھیں گے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کو ذریت شیطان سمجھا جائے۔اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فیضان کی تمام کنجیاں کسی وجود کو تھما دی ہوں تو اس سے ہٹ کر کسی اور فیض کو طلب کرنے والا غیر اللہ سے فیض طلب کرتا ہے۔یہاں آنحضرت ﷺ کے موحد کامل ہونے