خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 701 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 701

خطبات طاہر جلد ۱۲ 701 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء کے مسلمانوں کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں۔بعض دفعہ بہت سخت احتجاج کے خط بھی ملے۔کچھ تو کبھی بددعا بھی کر دیں کچھ تو ہمارے دل ٹھنڈے ہوں، کچھ تو خدا اپنے جلال کا جلوہ دکھائے۔ہمیں بھی پتا لگے کہ یہ دشمن ہوتے کون ہیں؟ لیکن باوجود اس کے کہ انتہائی دکھ پہنچتا ہے ان ظلموں سے میں مجبور کر دیتا ہوں اپنے آپ کو کہ میں ان کے لئے بددعا نہ کروں کیونکہ اگر میں ان کے لئے بددعا کروں گا تو مجھے ڈر ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں سے میرا ویسا تعلق قائم نہیں رہے گا جیسا میں چاہتا ہوں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے انتہائی دکھوں کے وقت بھی ، انتہائی مصیبت کے وقت بھی جبکہ خدا کا غضب دوسروں پر چمکنے کے لئے تیار کھڑا تھا جیسے بجلی چمکتی ہے کسی کو بھسم کرنے کے لئے ایسی کیفیت تھی مگر جب خدا کے فرشتوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ یہ جانتے الله نہیں ہیں ، میں ان کی تباہی کی دعا نہیں کروں گا، میں ان کی ہدایت کی دعا کروں گا۔پس یہ ہے خدمت خلق کا مضمون جسے آپ توحید سے سمجھ سکتے ہیں جب آپ موحد بنیں گے تو سمجھنے کی بات نہیں رہے گی۔از خود یہ مضمون آپ کے دل میں فطرت ثانیہ بن کر اٹھے گا اور آپ کے خون میں جاری ہو جائے گا، آپ کی رگ و پے میں سرایت کر جائے گا، آپ کی فطرت ثانیہ بن جائے گا۔اس کے سوا آپ کے لئے چارہ نہیں رہے گا۔آپ ایسے انسان بنیں گے کہ اپنے پر ظلم کرنے والوں کی خیر خواہی چاہیں گے۔اس جذبے کے ساتھ آپ بنی نوع انسان کو موحد بنانے کی تیاری کریں۔اور اس کا کچھ حصہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میں انشاء اللہ بعد میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔پھر فرماتے ہیں: وو۔۔۔انتہائی درجے پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا۔اس کو تمام انبیاء اور 66 تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی۔۔۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو پڑھ کر روح وجد میں آجاتی ہے، ایک ایک فقرے میں ایسے ایسے عظیم موتی جڑے ہوئے ہیں، انسان دنگ رہ جاتا ہے۔وہ کیسا قلم تھا، کیسی تحریر تھی ،سلطان القلم کا جو خطاب آپ کو ملا ہے یہ اس سے بڑھ کر کوئی تصور نہیں انسان کرسکتا کہ خدا کسی کو