خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 697 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 697

خطبات طاہر جلد ۱۲ 697 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء صلى الله در حقیقت پاک دامنی کے لئے انسان کی جدو جہد ، تو حید کے لئے جدوجہد کا ہی دوسرا نام ہے۔موحد ہی ہے جو ہر پہلو سے یک رنگ، پاک دامن ہوا کرتا ہے اور اس پہلو سے بڑے بڑے پارساؤں کو بھی دیکھیں تو ان کے دامن بھی داغدار دکھائی دیں گے کیونکہ نفس کی کمزوریاں جگہ جگہ انسان کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں اور گناہ کے چھینٹوں سے انسان کا دامن داغدار ہوتا رہتا ہے۔ہاں ایک وجود تھا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا وجود، جنہوں نے خود اپنے متعلق فرمایا کہ شیطان تو میری رگ و پے میں دوڑنے والا ہے جیسا کہ ہر انسان کے لئے مقدر کیا گیا ہے مگر میرا شیطان مسلمان ہو چکا ہے۔”شیطان مسلمان ہو گیا“ (ترمذی کتاب الرضاع حدیث نمبر: ۱۰۹۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ نفس کی ہر باغیانہ طاقت کو آپ نے زیر کر دیا۔ہر بدی کی تحریک کرنے والے جذبے کو آپ نے لگام دے دی اور ایک ایسے پاک وجود کے طور پر ابھرے جس کے نفس سے غیر اللہ کی طرف کوئی تحریک نہیں ہوتی۔بدی کا کوئی محرک بھی دل میں باقی نہیں چھوڑا۔اسے پہلوانی کہتے ہیں اور یہ پہلوانی پہلے اپنے نفس کو زیر کرتی ہے پھر غیروں کو زیر کرنے کی طاقت عطا ہوتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو۔۔۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی۔(آپ نے دنیا میں اس کو قائم فرمایا۔وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔(اور یہ کیسے لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجے پر محبت کی اور انتہائی درجے پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔۔۔“ توحید کے نتیجے میں اللہ کی محبت درجہ کمال کو پہنچتی ہے کیونکہ جب غیر باقی نہ رہے۔ایک ہی حسین نقش ہو، وہ خدا کی ذات کا نقش ہو تو کسی اور سے محبت رہ نہیں سکتی۔لیکن ایک اور قسم کی محبت تمام بنی نوع انسان سے ہو جاتی ہے وہ خدا کے واسطے سے ہے جو محبوب ہو اس کو جو چیز پیاری لگتی ہے۔محبت کرنے والے کو بھی پیاری لگنے لگتی ہے اور یہی وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں کامل شان کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اس نے خدا سے انتہائی درجے پر اللہ تعالیٰ سے محبت کی اور جتنی وہ محبت بڑھی اسی قد رخدا کی مخلوق سے بھی محبت پیدا ہوئی اور خدا کی مخلوق سے محبت کسی ذاتی تعلق یا دل کی نرمی کے نتیجے میں نہیں تھی بلکہ عشق الہی کے نتیجے