خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 696 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 696

خطبات طاہر جلد ۱۲ 696 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس ایک ایسی روحانی اور عظیم آسمانی زبان میں اپنے مطلب کو بیان کر رہا ہے۔اس کے مضمون میں آپ ڈوب کر پڑھیں تو لمحہ لمحہ آپ کے دل کی کیفیت تبدیل ہوتی چلی جائے گی یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کلام کے ساتھ خدا دل میں اتر رہا ہے۔آنحضرت ﷺ کا عرفان اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ان معنوں میں نصیب ہوتا ہے کہ گویا آپ کے عرفان کے ساتھ خدا کا عرفان نصیب ہو رہا ہے اور خدا کے عرفان کی دولت کو پانے کے لئے یہی ایک فرماں روا رسول وہ ہے جس کے خزانے سے آپ حقیقت میں خدا کا عرفان پاسکتے ہیں۔پہلے اس صلى الله نبی ﷺ کا عرفان پانا ضروری ہے۔فرماتے ہیں: وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی۔وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔۔۔66 سوال یہ ہے کہ توحید کے ساتھ پہلوانی کا کیا تعلق ہے؟ انسان سوچ سکتا ہے کہ مضمون تو توحید کا بیان ہو رہا ہے یہاں کچھ اور ذکر چاہئے تھا۔ایسا صوفی منش انسان ، ایسا عارف باللہ اس کو دوبارہ دنیا میں لایا مگر حقیقت یہ ہے کہ توحید کو دنیا میں قائم کرنا ایک عظیم پہلوانی کا تقاضا کرتا ہے۔جری اللہ ہی ہے جو تو حید کو دنیا میں قائم کرتا ہے۔اپنے نفس سے لڑنے کے لئے بھی جتنی پہلوانی کی ضرورت ہے وہی انسان کو میسر نہیں آتی ، اپنے نفس میں توحید کو جاری کرنے کے لئے جتنی غیر معمولی طاقت کی ضرورت ہے وہی انسان کو میسر نہیں آتی۔اس لئے کوئی شخص اپنے وجود کے اندرونے کو بھی موحد نہیں بنا سکتا اس لئے کہ اس میں وہ طاقتیں نہیں ہیں، ان طاقتوں کے ساتھ مسلسل لڑائی کر کے غیر اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر قوت کو مغلوب کرنا پڑتا ہے۔پس لفظ پہلوان، یہاں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل پر الہام ہوا تھا کیونکہ لفظ پہلوان ہی درحقیقت اس مضمون کو کھولتا اور بڑی شان کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ غیر معمولی جد و جہد کرنی پڑی ہے آپ کو، غیر معمولی طاقت اور شان کے ساتھ آپ نے غیر اللہ کا مقابلہ کیا ہے۔تب کہیں جا کر تو حید کو دنیا میں نافذ کیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی خطبات میں ذکر کر چکا ہوں۔آپ بعض چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی موحد بننے کے لئے اپنے نفس سے لڑائی شروع کر کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نفس کو زیر کرنا کتنا مشکل کام ہے۔