خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 691 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 691

خطبات طاہر جلد ۱۲ 691 خطبه جمعه ۱۰ار ستمبر ۱۹۹۳ء کامیابی خالصہ اللہ تعالیٰ پر مصر تھی، اللہ تعالی کی حمایت پر منحصر تھی اور اگر ساری دنیا آپ ﷺ سے منہ پھیر لیتی تب بھی ایک ذرہ بھر بھی آپ کے دل میں مایوسی راہ نہ پاسکتی تھی۔یہ وہم دل میں گزر ہی نہیں سکتا تھا کہ ان لوگوں سے تو امید تھی ، اب یہی منہ پھیرے جاتے ہیں، میرا کیا ہوگا۔آنحضرت ﷺ کی تو حید ان معنوں میں بار ہا آزمائی گئی ہے۔صلح حدیبیہ کے وقت بھی ایسا ہی موقع پیش آیا، جنگ احد کے وقت بھی یہ تو حید آزمائی گئی ، جنگ حنین کے وقت بھی یہ تو حید آزمائی گئی۔جن صحابہ سے بڑی بڑی تو قعات تھیں۔ان میں سے بعض ان توقعات پر پورا نہیں اترے لیکن آنحضرت ﷺ کے تو کل پر کوئی فرق نہیں پڑا۔پس یہ معنی ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خلقت سے امید اٹھ گئی یعنی یہ ایسی امید خلقت سے نہیں لگا رکھی تھی جس امید پر بنا ہو جائے جس امید سے حقیقی کامیابی وابستہ کر دی جائے۔ان کے اعلیٰ اخلاق سے توقعات وابستہ تھیں مگر ان معنوں میں نہیں تھیں کہ خلقت پر تو کل ہے اور بیم کا معنی ہے خوف۔خلقت کا خوف بھی کلیۂ دل سے اٹھ گیا ہے۔مکی دور میں یہ پہلا حصہ خلقت کا خوف کلیۂ دل سے اٹھ جانا پوری شان سے ظاہر ہوا ہے اور مدنی دور میں امید والا حصہ پوری شان سے ظاہر ہوا ہے۔اگر آپ تفصیل سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو اگر چہ یہ دونوں صفات مکی دور میں بھی جلوہ گر دکھائی دیں گی۔مگر بیم والا حصہ یعنی بنی نوع انسان سے خوف کا کلیۂ فقدان، یہ پوری شان کے ساتھ مکے میں چکا ہے اور امیدوں کا محض خدا سے وابستہ ہونا اور اپنے پیاروں سے بھی امید لگا کر اس پر انحصار نہ کرنا۔یہ کلیہ بڑی شان کے ساتھ مدنی دور میں چکا ہے اور اسی کا نام تو گل ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔الله "۔۔۔اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے ( یعنی سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تو کل محض اللہ ہی پر تھا ) کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ تو حید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درداٹھانا ہو گا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجالائے ، جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی