خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 690

خطبات طاہر جلد ۱۲ 690 خطبه جمعه ۱۰ار ستمبر ۱۹۹۳ء اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ خدا کے پاک بندے جو اپنی خوبیوں کو ظاہر کرنے سے شرماتے ہوں ، بدیوں کو چھپانے کے لئے نہیں بلکہ خوبیوں کو ظاہر کرنے سے حیار کھتے ہوں ان کی صفت کو دورنگی نہیں کہا جاتا۔یہ صفت ان کی انتہائی پاک باطنی کی دلیل اور جہاں بد انسان اپنی برائیوں پر پر دے ڈالتا ہے اور نیکیوں پر یا خیالی نیکیوں پر سے جو ان کا وجود ہی کوئی نہیں ہوتا۔پردے اٹھاتا ہے اور انہیں نیکیاں بنا بنا کر دکھاتا ہے وہاں موحد انسان اپنی خوبیوں پر پردے ڈالتا ہے اور خوبیوں پر پردہ ڈالنا حیا کی وجہ سے ہے۔وہ دورنگی نہیں ہے بلکہ یک رنگی میں داخل ہے۔پھر فرمایا: ”۔۔خدا کے لئے جانباز اور خلقت کے بیم وامید سے بالکل منہ پھیر نے والے۔۔۔“ خدا کے لئے جانباز اپنا سب کچھ خدا کی خاطر پیش کرنے، دینے والے ہمہ وقت اپنی جان کو تھیلی میں لئے پھرنے والے کہ جب خدا کی طرف سے قربانی کا مطالبہ آئے وہیں اپنی جان خدا کے حضور پیش کر دوں۔یہ مضمون ہے جانبازی کا اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے۔خدا تعالیٰ کے وجود پر کامل انحصار کے نتیجے میں بنی نوع انسان سے نا امید رہتی ہے ، نہ خوف رہتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی ذات میں کامل ہوا ہے۔امیدیں بعض قسم کی ضرور ہوتی ہیں۔اس لئے یہ تشریح کرنی ضروری ہے کہ یہ نہ سمجھیں کہ کسی سے کوئی امید نہیں تھی۔بعض معنوں میں آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ سے امیدیں رکھتے تھے۔ان سے بلند کرداری کی امیدیں رکھتے تھے، ان سے یکرنگی کی امیدیں رکھتے تھے، ان سے تو کل الی اللہ کی امیدیں رکھتے تھے۔پس نیکی کی امیدیں رکھنا ان امیدوں میں داخل نہیں جن کی نفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں۔امید سے مراد یہ ہے سہارا ڈھونڈنا اور کسی کے سہارے پر بنا کر نا۔اس بات پر امید نہیں تھی کہ اگر صحابہ ساتھ دیں گے تو میں کامیاب ہوں گا۔صحابہ کے ساتھ دینے پر دل پر ایک امید سے بڑھ کر یقین تک کی حد تک انحصار پایا جاتا تھا یعنی انحصار اس بات پر نہیں تھا کہ صحابہ مدد کریں گے تو کامیاب ہوں گے لیکن صحابہ کی نیکی پر انحصار تھا۔جانتے تھے کہ صحابہ ہمہ وقت جان فدا کرنے کے لئے تیار ہیں۔بس یہ امیدیں ان سے وابستہ ضرور تھیں مگر کامیابی پر ان امیدوں کا کوئی اثر نہیں۔