خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 668
خطبات طاہر جلد ۱۲ 668 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء جو مسلسل صبر و رضا کے ساتھ دم بہ دم بہتے ہوئے خون سے جو قر بانیوں کی صورت میں مسلسل زندگی بھر ان کی ذات سے بہتا رہا اس خون سے لکھی گئی۔یہ وہ گواہی ہے جو حقیقت میں سچی گواہی کہلانے کی مستحق ہے۔انہی معنوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سب شہیدوں سے بڑھ کر شہید بنایا گیا اور تمام انبیاء کی شہادت پر آپ ﷺ کی شہادت کو فوقیت دی گئی اور انہی معنوں میں وہ زندہ شہید بھی تھے جو حضور اکرم ہے کے وجود سے برکتیں پا رہے تھے اور وہ شہداء بھی تھے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ان نیتوں کو پورا کر دکھایا جو تو حید کی خاطر وہ دلوں میں باندھے بیٹھے تھے۔پس وہ قربانیوں کا دور ایک عظیم دور ہے جو تو حید پر ایسا گواہ ٹھہرا ہے کہ قیامت تک اس کی گواہی کا اثر مٹ نہیں سکتا اور اسی گواہی کے اثر سے ہم لوگ فیضیاب ہو رہے ہیں۔اب میں آپ کو تو حید سے متعلق کچھ اور باتیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں بتانی چاہتا ہوں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو جو عرفان خدا کا نصیب ہوا اس کی کوئی اور مثال دنیا میں موجود نہیں لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کا جو عرفان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نصیب ہوا اس کی بھی کوئی اور مثال دنیا میں دکھائی نہیں دے سکتی۔حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے لے کر اب تک تمام اہلِ عرفان کی تحریروں کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا و مولا حضرت محمدمصطفی احہ کا جو عرفان نصیب ہوا ہے جو آپ کی تحریروں سے ظاہر وباہر ہے اور چھلک رہا ہے جس میں آپ کی تمام تحریریں سموئی ہوئی ہیں۔ویسا عرفان آپ کو تمام ان تحریروں میں اجتماعی طور پر بھی دکھائی نہیں دے گا جو اس سے پہلے آپ کو اسلامی لٹریچر کی صورت میں ملتی ہے۔یہ کوئی فرضی دعوی نہیں، کوئی برا نہیں ہے جس کا جی چاہے آ کے دیکھ لے، جس کا جی چاہے موازنہ کر کے دیکھ لے۔اس قدر عشق اور محبت سے اور گہرے عرفان کے ساتھ جو ذ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان پر جاری ہوا وہ اجتماعی طور پر ان سب تحریروں پر بھاری دکھائی دے گا جو اس سے پہلے آپ کو اسلامی لٹریچر میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔پس آپ کی ہی زبان سے آنحضرت ﷺ کی تو حید کا ذکر بہت ہی پیارا ذ کر معلوم ہوتا ہے اور حضور اکرم یہ کس شان کے موحد تھے جو اس کی گہرائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں ملتی ہے۔وہ آپ کی مدد کے بغیر کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی، وہاں تک ہماری پہنچ نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ یہ شعر بیان کیا تھا کہ