خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد ۱۲ 667 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یعنی انسان کامل جو ہیں وہی اول صورت میں اس آیت کے مصداق ہیں آپ ہی کو قرآن کا علم عطا فرمایا گیا، آپ ہی کو وہ بیان عطا کیا گیا جس کے نتیجے میں قرآن کا عرفان ساری دنیا میں ہمیشہ ہمیش کے لئے جاری وساری ہوا۔تعال وسام پس رحیمیت کے جلوے کے نتیجے میں قرآن کو ہمیشہ باقی رکھنے کا انتظام فرمایا گیا ہے کیونکہ رحیمیت کا جلوہ ایک جاری جلوہ ہے جو بار بار ظاہر ہوتا ہے اور ایسا جلوہ ہے جس کے نتیجے میں ہر محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا پھل اس کی محنت سے بڑھ کر عطا کیا جاتا ہے۔پس کائنات میں یہ صلى الله جلوہ جاری تھا لیکن روحانی دنیا میں آنحضرت ﷺ کی صورت میں جیسے یہ جلوہ ظاہر ہوا ہے اس سے پہلے کبھی اس طرح ظاہر نہیں ہوا تھا۔تمام انبیا رحمانیت کے مظہر ہیں، تمام انبیاء رحیمیت کے مظہر ہیں لیکن ان کے ادوار مختصر تھے اور ان کا دائرہ کار مختصر تھا۔عالمی طور پر رحمت بن کے پہلے کوئی نہ آیا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے باقی رہنے والی رحمت بن کر اس سے پہلے کوئی نہ آیا تھا۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے پر دائما درود بھیجنے چاہئیں کیونکہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی توحید کا وہ جلوہ ہم نے دیکھا اور ہمیشہ دیکھتے رہیں گے جسے میں رحمانیت کے نام سے آپ کو متعارف کروا رہا ہوں یعنی قرآن نے متعارف کروایا اور رحیمیت کے طور پر میں آپ کو یہ جلوہ دکھا رہا ہوں جو قرآن نے ہمیں دکھایا۔اس ضمن میں میں چند روایات آپ کے سامنے گزشتہ خطبے میں پیش کر رہا تھا جن کا تعلق عظیم الشان قربانیوں سے تھا ایسی قربانیاں جو خالصہ توحید کی خاطر پیش کی گئیں اور وہ قربانیاں حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے غلاموں نے پیش فرمائیں اور میں آپ کو بتا رہا تھا کہ یہ قربانیاں دنیا میں تو حید کی گواہ بن گئیں کیونکہ محض منہ سے توحید کا اقرار کچھ حقیقت نہیں رکھتا اور قربانیاں پیش کرنا محض زبانی توحید کے اقرار سے میتر نہیں آسکتا۔قربانیوں کا گہرا تعلق گہرے عرفان اور گہری وفا سے ہے۔پس جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے تو حید کو گویا ان کی آنکھوں کے سامنے جلوہ گر کر کے نہ دکھا دیا۔اپنے وجود میں بھی اور خدا کے وجود میں بھی ، جو مسلسل تو حید کے جلوے آپ کی ذات پر ظاہر ہوتے رہے۔ان کا نمونہ جب تک ایک زندہ نمونے کے طور پر اپنے صحابہ کے سامنے نہیں رکھا اس وقت تک وہ صحابہ گواہ بنے کی اہلیت حاصل نہیں کر سکتے تھے اور گواہی وہ جو خون سے لکھی گئی ، گواہی وہ