خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد ۱۲ 62 خطبہ جمعہ ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء اصلى الله الصلوۃ والسلام پر بھی الہام ہوا۔نصرت با الرعب کا الہام ہمیں تذکرہ میں چار پانچ مرتبہ ملتا ہے۔(تذکرہ:۵۳) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی امیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رعب عطا فرمایا گیا تھا وہ رعب ختم نہیں ہو گیا بلکہ اس دور میں آپ کے غلاموں کے ذریعہ وہ رعب پھیلتا چلا جائے گا اور ہر براعظم پر وہ رعب ظاہر ہوگا۔پس یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں محمد مصطفی امت ہے کے خدا کے منہ کی باتیں ہیں جو کبھی غلط نہیں ہو سکتیں، دنیا کی کوئی طاقت ان باتوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔پس مسلمانوں کو میں یہ خوشخبری دیتا ہوں اور ان کے دل بڑھانے کے لئے ان کی ڈھارس بندھانے کے لئے ان کو مطلع کرتا ہوں کہ قرآن کریم میں ان سب بگڑے ہوئے ، دکھے ہوئے ایام کی پیشگوئیاں پہلے سے موجود ہیں اور ان قوموں کا بھی ذکر ہے جو اپنے تکبر میں دنیا میں خدا بن کر ظاہر ہونے پر خدا کے بندوں کو اپنے بندے سمجھنے والی تھیں یا یوں کہنا چاہئے کہ ان قوموں کا ذکر ہے جن کو تکبر نے مصنوعی خدا بنا دینا تھا اور خدا کے بندوں کو انہوں نے اپنا بندہ سمجھ لینا تھا اور پھر ان کے انجام کا بھی ذکر ہے۔پس یہ خیال نہ کریں کہ آج دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں مسلمانوں کو رگیدنے اور ان کو اپنے پاؤں تلے مسلنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں اور ہمارا کوئی سہارا نہیں۔اسلام کا سہارا خدا ہے اور وہ خدا ہے جس نے حضرت محمد مصطفی امی کو نہ کبھی بے سہارا چھوڑا نہ آئندہ کبھی بے سہارا چھوڑے گا اس لئے ہر گز کسی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔وہ آیات جن کی میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کی تھی وہ یہی مضمون پیش فرمارہی ہیں۔اَلْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَة كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ کہ اے دنیا کی بڑی طاقتو تمہیں التَّكَاثُرُ نے اپنی حقیقت سے غافل کر دیا ہے، اپنی حیثیت کو بھلا بیٹھے ہو، اپنے انجام کو دیکھنے کی استطاعت تم میں نہیں رہی۔الهی کا مطلب یہ سب کچھ ہے جو میں نے بیان کیا اور اس کے علاوہ بھی کہ ایسی غفلت جس میں انسان اپنے مفاد سے بے خبر ہو جاتا ہے، اپنی حیثیت سے بے خبر ہو جا تا ہے،اپنے آغاز سے بے خبر ہو جاتا ہے، اپنے انجام سے بے خبر ہو جاتا ہے۔فرمایا تم ایسی غفلتوں کے ذریعہ ہلاک کئے جاؤ گے۔الهُكُمُ التَّكَاثُرُ تمہیں مال بڑھانے اور طاقتیں بڑھانے اور دنیا کی لذات بڑھانے کے جنون نے اور ان ساری دنیاوی نعمتوں اور طاقتوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے