خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد ۱۲ 61 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء جو خطوط مل رہے ہیں ان کی ساری باتیں تو آپ کے سامنے نہیں رکھ سکتا لیکن اتنے پیارے خطوط ہیں ایسے عمدہ رنگ میں جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہر جمعہ پر دل چاہتا ہے کہ آپ سب سننے والوں کو کچھ نہ کچھ ان میں شریک کروں۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک احمدی رسالے میں ایک نوجوان احمدی شاعر کا ایک شعر پڑھا تھا ان کا نام عبد الکریم قدسی صاحب ہے ان کا جو مقطع تھا وہ مجھے بہت ہی پسند آیا۔وہ شعر یہ تھا: آ ! تیرے بعد گلے ملنا ہی بھول گیا آ! قدسی کو سینے سے لگا پہلے کی طرح تو اب یہ ایک قدسی کے دل کی آواز تو نہیں رہی اب تو لاکھوں دلوں سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ: آ! تیرے بعد گلے ملنا ہی بھول گئے آ! ہم سب کو سینے سے لگا پہلے کی طرح پس دعا کریں کہ واقعہ سینے سے لگنے اور سینے سے لگانے کے سامان ہوں اور روحانی لحاظ سے تو جو آثار ظاہر ہورہے ہیں یونہی لگتا ہے کہ انشاء اللہ تمام احمدیوں کے دل ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور تمام احمدیوں کے سینے ایک دوسرے سے مل جائیں گے مگر آج کل سینے سے لگانے کی باتوں کے ساتھ بعض بہت ہی دردانگیز باتیں بھی ذہن میں آجاتی ہیں وہ رات جبکہ امریکہ میں پھلجھڑیوں کی رات تھی جبکہ ہر طرف خوشیوں کی پھلجھڑیاں چلائی جارہی تھیں۔عراق پر آگ برسائی جارہی تھی اور وہ آگ عراق پر نہیں بلکہ ایک ارب مسلمانوں کے دل پر برس رہی تھی۔مسلمانوں کی دردانگیز کیفیت کی طرف دھیان جاتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ ایک ارب مسلمانوں میں سے ہر ایک کو سینے سے لگا کر ڈھارس دوں اور تسلیاں دوں اور ان کو بتاؤں کہ آپ کمزور ہو چکے ہیں۔مگر محد مصطفی ﷺ کا دین کمزور نہیں ہوا۔آپ بکھر گئے ، آپ نے اپنے نفاق کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو کر اپنی خود غرضیوں میں پڑ کر جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا تھا اپنی ہوا نکال دی ہے۔رعب جاتا رہا ہے۔لیکن دین محمد مصطفی امیہ کا رعب نہ مٹا ہے نہ مٹ سکتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی جو خاص اعزاز بخشتے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ نصرت بــا الـــعـــب ( نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر : ۳۰۳۸) رعب کے ذریعہ میری نصرت کی جائیگی یہ وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ