خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 619
خطبات طاہر جلد ۱۲ زاویہ سے دیکھنے لگتا ہے۔619 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء جہاں تک جہاد کے دوران حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی اللہ کے لئے غیرت کا تعلق ہے۔اس سلسلہ میں ایک لمبی حدیث میں سے ایک حصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جنگِ احد میں جب وہ دردناک واقعہ پیش آیا کہ وہ صحابہ جو ایک دڑے پر مامور فرمائے گئے تھے اور حکم تھا کہ تم نے وہاں سے کسی قیمت پر نہیں ٹلنا لیکن ان میں سے بعض نے جب یہ دیکھا کہ دشمن کے پاؤں اکھر گئے ہیں اور بے تحاشہ بھاگ رہا ہے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ اب ہمارا جو دائرہ امر تھا وہ ختم ہو گیا ہے یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ہمارے لئے جو حکم دیا تھا اس کا دائرہ امرختم ہو گیا۔اب اس کی حد ختم اور اب ہم آزاد ہیں جو چاہیں کریں، فتح ہو گئی۔ساری عمر کے لئے تو یہاں نہیں بیٹھنا تھا۔گویا یہ ان کے ذہن نے سوچا اور یہ سوچ غلط تھی کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمان بالکل واضح تھا کہ جب تک میں اجازت نہ دوں خواہ فتح بھی ہو جائے تم نے نہیں ٹلنا۔بہر حال غلطی ہوئی اور اس کی بہت بڑی سزا سب مسلمانوں کو بھگتنی پڑی کیونکہ بعض دفعہ ایک غلطی سے قوم کو سزا ملتی ہے۔ایک ڈرائیورا ایکسیڈنٹ کرتا ہے لیکن ساری بس کے لوگ مارے جاتے ہیں۔یہ ایک قانون قدرت ہے کہ بعض غلطیاں قوم کے لئے تکلیف دہ بن جایا کرتی ہیں۔الله بہر حال جب وہ ابتلاء کا وقت آیا تو آنحضرت ﷺ اپنے بعض عشاق کے جھرمٹ میں ایک غار میں پناہ گزیں تھے اس وقت ابوسفیان نے بڑی تعلی سے یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ ہم جیت گئے ، بدر کا بدلہ لے لیا گیا اور اس اعلان کے بعد اس نے بلند آواز سے یہ کہا کہ کیا مسلمانوں میں محمد ہے؟ یعنی آنحضرت ﷺ زندہ موجود ہیں؟ صحابہ نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن حضور اکرمی نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا کہ بالکل جواب نہیں دینا۔پھر اس نے اعلان کیا کہ کیا ابن ابی قحافہ ہے؟ یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور بلند آواز سے تین دفعہ اس نے یہی کہا لیکن چونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اجازت نہ دی تھی اس لئے سب خاموش رہے۔پھر حضرت عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ جب اس نے کہا ابنِ خطاب ہے؟ تو حضرت عمرؓ کچھ بے قابو ہوئے اور جواب پر تلے کیونکہ آپ کے مزاج میں اس لحاظ سے ذرا زیادہ تیزی پائی جاتی تھی کہ کون ہوتا ہے عمر کی بے عزتی کرنے والا۔تو حضور اکرم ﷺ نے پھر ہاتھ کے خاص اشارے سے کہا کہ نہیں بالکل جواب نہیں دینا۔چنانچہ وہ خاموش الله