خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد ۱۲ 581 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء اپنی حکومتوں سے غرض ہے، اپنے کھانے پینے اور عیش وعشرت کے سامان سے دلچسپی ہے لیکن اسلام کی کیا حالت ہے؟ یہ ان کی بلا جانے ، ان سے ان کو کوئی غرض نہیں۔یہ کیوں ہے جبکہ کتاب وہی ہے؟ پس وہ سوال جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر میں اٹھایا تھا۔اس سوال کا یہ کیسا عمدہ جواب حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ہمیں عطا فرمایا۔دیکھو یہ ساری باتیں ہوں گی لیکن ایمان اٹھ جائے گا اور جب تک ایمان واپس نہ آئے اسلام دنیا میں واپس نہیں آسکتا۔اسی مضمون کو ایک اور جگہ نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ان یاتـي عـلـى الـنـاس زمان لا يبقى من الاسلام الا اسمه و لايبقى من القرآن الا رسمه مساجدهم عامرة وهى خراب من الهدى علماء هم شر من تحت ادیم السماء (مشكوة كتاب العلم الفضل الثالث صفحہ نمبر (۳۸) ایک ایسا بد نصیب زمانہ آنے والا ہے کہ جب اسلام ہو گا لیکن نام کا اسلام۔اعمال میں جاری ہو گا دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا نہیں ہوگا اور قرآن ہو گا لیکن قرآن تحریر کے لئے ہو گا قرآن کی تحریریں تو کثرت سے ملیں گی لیکن قرآن دلوں اور اعمال اور خون میں جاری و ساری دکھائی نہیں دے گا۔نشانی اس کی کیا ہے؟ فرمایا مسجدیں تو آباد دکھائی دیں گی بڑے بڑے اجتماع آپ کو مساجد میں نظر آئیں گے۔و هــی خــراب من الهدى لیکن ہدایت سے خالی۔انسانی جم غفیر مسجدوں کو تقویٰ سے نہیں بھر سکتے۔تقویٰ سے تو متقی دل بھرا کرتے ہیں۔یہی نقشہ ہے جو حضور اکرم ﷺ نے بیان فرمایا اور پھر ایک منطقی نتیجے کے طور پر اٹھنے والے سوال کا بھی جواب دے دیا۔ایک انسان یہ سوچ سکتا تھا یہ سب باتیں درست لیکن اس قوم کے علماء تو ہوں گے اور علماء کو خدا تعالیٰ یہ توفیق بخشے گا کہ وہ از خود اپنی کوششوں سے اس گرتی ہوئی امت کو صلى الله سنبھال لیں۔لیکن حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ فرماتے ہیں۔علماء ہم شرمن تحت ادیم السماء دیکھو اس وہم میں مبتلا نہ ہو جانا کہ ان پراگندہ حال مسلمانوں کو ان کے علماء بچالیں گے کیونکہ وہ تو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔آنحضور لے کے متعلق جیسا کہ میں نے ابھی قرآن کریم کی آیت پڑھ کر بیان کیا ہے۔حکمت کا ذکر ملتا ہے یہ صرف تعلیم نہیں کیا کرتے تھے۔حکمت بھی بیان فرمایا کرتے تھے اور اس بات میں ایک عظیم الشان حکمت کا گہرا راز ہے۔جس میں قوموں کے عروج و زوال کا مسئلہ حل ہوا ہے۔