خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 553
خطبات طاہر جلد ۱۲ 553 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء بدل کر جارہے ہیں اور یہ احساس کسی تعلیم کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل مشاہدے کا نتیجہ ہے۔بچپن سے میں جلسہ سالانہ میں مختلف حیثیتوں سے شریک ہوتا آرہا ہوں لیکن کبھی ایک دفعہ بھی مجھے یاد نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شمولیت سے پہلے اور شمولیت کے بعد کی کیفیت ایک جیسی ہو یا آنے والے مہمانوں میں اور قادیان کے بسنے والوں یار بوہ کے بسنے والے مقامی لوگوں میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہوئی دکھائی نہ دیں۔یہ وہ منظر نہیں ہے جو آنکھوں سے چھپا رہے۔لوگوں کی کیفیات ہیں مگر اجتماعی نظاروں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔پس اس شان کا جلسہ دنیا کے پردہ پر کہیں اور نہیں منایا جاتا جس شان کا جلسہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ اس کے آداب ہمیں سکھلا گئے۔اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کچھ تحریرات ہیں جو اس جلسہ سے توقعات کے سلسلہ میں ہیں وہ میں انشاء اللہ جلسہ کے آئندہ خطبہ میں پیش کروں گا۔اس وقت جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کچھ عمومی نصیحتیں کرنی چاہتا ہوں جن کا تعلق مہمانوں سے بھی ہے اور میز بانوں سے بھی۔جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے، خدا کے فضل سے رفتہ رفتہ ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی اب جلسہ کی انتظامیہ بہت پختہ اور مضبوط اور با سلیقہ ہو چکی ہے۔اس پہلو سے ان کو کسی توجہ دلانے یا نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں جانتا ہوں روز مرہ ان سے رابطہ ہے، جو بات سمجھ میں نہ آئے مجھ سے ہو چھ لیتے ہیں، ہر اہم فیصلے سے پہلے مجھے بات بتا کر ا جازت لے لیتے ہیں۔اس لئے یہ جو مسلسل رابطہ ہے یہی میرے اور ان کے درمیان افہام و تفہیم کا ایک ذریعہ ہے اور ان کو پبلک میں اس طرح خطبات کے ذریعہ کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہے لیکن چونکہ ایسے جلسے سب دنیا میں منعقد ہوتے ہیں اس لئے جلسہ کے ذکر میں اگر انتظامیہ سے متعلق بھی کچھ نہ کچھ باتیں ہو جائیں تو یہ بے فائدہ نہیں ہوں گی کیونکہ اور جلسے منانے والے منتظم ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔انتظامیہ کی جان یک جہتی میں ہے اور انتظامیہ کا سر براہ ایک مرکزی نقطہ ہوتا ہے۔دنیا کی انتظامیہ میں یہ مرکزی نقطہ گویا دماغ ہے مگر جماعت کی ہر انتظامیہ میں جیسا کہ جماعت کا اپنا حال ہے یہ مرکزی نقطہ دماغ بھی ہوتا ہے اور دل بھی ہوتا ہے۔انتظامیہ کا اگر اعصابی رشتہ دماغ سے ہو تو ایسی انتظامیہ بسا اوقات کئی قسم کی چپقلشوں کا شکار ہو جاتی ہے، کئی قسم کی دل آزاریوں اور ٹھوکروں کے نتیجہ