خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 552

خطبات طاہر جلد ۱۲ 552 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء ہیں، ان شہداء کا خون ہے جو ایک منظر بن کر سب دنیا میں ابھر رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا بہت ہی احسان ہے، ہم سب آپ قربانی کرنے والوں کے ممنون احسان ہیں کہ جس نے خدا کے فضل اس شان سے کھینچے ہیں اور اس قوت سے آسمان سے یہ فضل نازل ہونے شروع ہوئے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت اب ان کو نہیں روک سکتی ، ان کے بس کی بات نہیں رہی۔یہ دوست جن کا میں خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں، رانا نعیم الدین صاحب ہیں، محمد الیاس منیر مربی سلسلہ، محمد حاذق رفیق طاہر، چودھری عبدالقدیر صاحب، چودھری نثار احمد صاحب، ان میں سے پہلے تین تو شادی شدہ ہیں اور بچوں والے ہیں اور آخری دو غیر شادی شدہ ہیں۔یہ نو سال سے جیل میں ہیں۔ان کے لئے خصوصیت سے دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی ظاہری مشکل کے دن بھی کاٹ دے جس طرح روحانی لذتوں کے سامان فرمائے ہیں ، آزادی کی وہ ظاہری نعمتیں بھی ان کو عطا کرے جس میں ہم تو شریک ہیں مگر یہ شریک نہیں ہیں۔اس کے بعد جیسا کہ دستور ہے آنے والے جلسے کی ذمہ داریوں سے متعلق م متعلق منتظمین کو خصوصیت سے اور آنے والے مہمانوں کو بھی اور یہاں خدمت کرنے والے میز بانوں کو بھی مخاطب ہوتا ہوں، ان کی خدمت میں کچھ باتیں عرض کرنی چاہتا ہوں۔یہ جلسہ جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں ، ایک عالمی جلسہ ہے، ایک خاص اعلیٰ مقصد کی خاطر منعقد ہوتا ہے اور بہت سے لوگ بڑی تکلیفیں اٹھا کر بہت اموال کا خرچ کر کے اپنے اوقات صرف کرتے ہوئے اس جلسے کا انتظار کرتے ہیں اور بڑی امنگوں اور شوق سے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ہر آنے والے کے ذہن میں ایک تصویر ہے اور وہ تصویر یہ نہیں ہے کہ ہم دنیا کی لذتیں یا نمائشیں دیکھنے جارہے ہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس یہ تصویر ہے کہ ہم ایسے روحانی اجتماع میں شرکت کے لئے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں ہمیں باقی رہنے والی عظیم روحانی لذتیں عطا ہوں گی۔پاک تبدیلیاں ہمارے اندر بھی رونما ہوں گی اور لوگوں میں بھی یہ تبدیلیاں رونما ہوتے ہوئے ہم دیکھیں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جلسہ میں ہمیشہ یہ دونوں باتیں بالکل صداقت کے ساتھ بعینہ اسی طرح پوری ہوتی ہیں۔آنے والے پاک تبدیلیاں ہوتی ہوئی محسوس کرتے ہیں اور محسوس ہونے والی یہ تبدیلیاں ان کے چہروں پر ان کے تبدیل ہونے والے آثار میں ظاہر ہوتی ہیں اور دیکھنے والے محسوس کرتے ہیں کہ کچھ ہو رہا ہے۔جو آئے تھے۔یہ وہ نہیں رہے بلکہ