خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 544
خطبات طاہر جلد ۱۲ 544 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء کامل طور پر خلافت کے مطیع اور فرمانبردار ہیں کہ اگر ان کے اندر ذرا بھی خلافت کے معاملہ میں رخنہ پایا تو ان کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں گے۔یہ وہ کامل اعتماد تھا جس کے نتیجہ میں کسی رقابت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور جیسا کہ میں نے پہلے مضمون میں بیان کیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی محبت خدا کی محبت کو بڑھانے والی بنتی ہے نہ کہ کم کرنے والی اسی طرح ایسے بزرگ جن کو خلافت سے کچی عقیدت اور محبت ہو ان کی محبت لازماً خلیفہ وقت کی محبت کو دلوں میں بڑھاتی ہے اور تقویت بخشتی ہے، اس کی نفی کی کوئی علامت ہونی چاہئے اگر یہ نہ ہو تو کس طرح بات ظاہر ہوتی ہے ایسے بزرگ یا اور ایسے لوگ جن سے کبھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور خلیفہ وقت ان سے منہ پھر لیتا ہے، ناراضگی کا اظہار کر دیتا ہے تو یہ سارے لوگ اس سے تعلق تو ڑ کر الگ ہو جاتے ہیں۔محبتیں نہیں مٹتی ہوں گی ، ان کے لئے دل میں درد بھی ہوتا ہوگا ، دعائیں بھی کرتے ہوں گے کیونکہ مجھے خود زندگی میں ایسا تجربہ ہے کہ خلیفہ وقت کی ناراضگی کی وجہ سے غیرت نے اجازت نہیں دی کہ ان سے تعلق رکھا جائے اور اگر تعلق ہے تو اسے مخفی دعاؤں کے تعلق میں تبدیل کر دیا جائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ وہ غلط فہمی دور کر دے یا ان کی مغفرت کے سامان فرمائے۔ایسے لوگوں کی توحید کی علامت یہ تھی کہ اگر اس حالت میں کوئی دوسرا ان کو ابھارنے کی کوشش کرتا تھا یا ان کی ہمدردی کے لئے ان سے ملنے کی کوشش کرتا تھا تو وہ اس طرح دھتکار دیتے تھے جس طرح شیطان کو اپنے در سے دھتکارا جاتا ہے اور استغفار کرتے تھے کہ یہ کمبخت کون آگئے ہیں مجھے کیا سمجھتے ہیں خلیفہء وقت کی ناراضگی ہزار ہو میں ان کا غلام، میں نے بیعت کی ہوئی ہے میں جانوں اور وہ جانے یہ کون ہوتے ہیں بیچ میں دخل دینے والے یا میری حمایت کرنے والے، تو دونوں طرف سے یہ صداقت کھل کر سامنے آجاتی تھی۔اس کے برعکس مجھے علم ہے کہ ایک دفعہ سندھ کی ایک چھوٹی سی جماعت میں ایک شخص نے اپنی بزرگی کے قصے شروع کئے خدا سے الہام پانے اور کشوف پانے کے واقعات سنانے شروع کئے راتوں کو عبادتوں کے لئے کھڑا ہو گیا۔ہاہو سے سارے گاؤں کو جگا دیتا تھا اور اس کی بزرگی کے قصے پھیلنے شروع ہوئے لیکن محدود پیمانے پر ایک گاؤں کے سارے لوگ بھی نہیں اس کے بھی چند لوگ تھے جو اس کے مرید بنے ، حضرت مصلح موعودؓ نے اس پر اتنی غیرت محسوس کی کہ ایک بڑا جلالی خطبہ دیا اور کہا کہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ یہ خدا سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ اس کے پاس جارہے ہیں میں بتا رہا