خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 535
خطبات طاہر جلد ۱۲ 535 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء وقت وہاں کے وزیر دفاع بھی شامل ہوئے اور ان علاقوں میں جہاں کثرت سے احمدیت پھیل رہی ہے وہاں کے بہت سے آئمہ مساجد بھی شامل ہوئے اور حیرت انگیز نظارے تھے یوں لگتا تھا کہ جس طرح باغوں میں شمشاد بڑھتے ہیں اس طرح ایمان پھولتا پھلتا دکھائی دیتا تھا۔پس یہ سب کوششیں امت واحدہ بنانے کے لئے ہی ہیں اور اگر ہم نے توحید سے اپنے قدم ہٹا لئے یا اپنی توحید میں رخنے پیدا ہونے دئے تو یہ ساری کوششیں بریار ہیں کچھ بھی ان کا حاصل نہیں اس لئے جہاں خدا کی حمد کرتے ہیں وہاں ان ارادوں اور عزائم کو مضبوط تر کریں اور دہراتے رہیں اور اپنے آپ کو بھی یاد کروائیں اور اپنی نسلوں کو بھی یاد کروائیں کہ یہ سب کچھ تو حید کی خاطر ہے اور امت واحدہ بنانا توحید ہی کی ایک شاخ ہے اور ہمیں خدائے واحد کی قسم ہے کہ ہم تو حید کے ساتھ اس طرح چمٹتے رہیں گے کہ ہماری گردنیں بھی کاٹ دی جائیں اور تن سے ہاتھ جدا کر دئیے جائیں جو تو حید کو پکڑتے ہیں تو پھر بھی ہماری روح کا تعلق توحید سے کاٹا نہیں جا سکے گا۔اس جذبے کے ساتھ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا کریں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی مخالف طاقت جماعت کے اوپر ان فیوض کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی جو فیوض آسمان سے برستے ہیں ان کو زمین والے روک نہیں سکتے اور یہی کیفیت ان فیوض کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احسان سے آسمان سے برسنے والے فیوض ہیں۔توحید کے اس مضمون کو میں آگے بڑھاتے ہوئے شرک کے متعلق وضاحت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ پچھلے خطبے اور اس خطبہ کے دوران ایک خط میں مجھے خصوصیت کے ساتھ اس کے متعلق توجہ دلائی گئی کہ شرک کے متعلق پتا چلے کہ یہ کیا ہے اور کیوں خدا یہ معاف نہیں کرتا۔سوال تو مختصر تھا لیکن اس سے پیدا ہونے والے سوالات میرے ذہن میں ابھرے اور میں نے مناسب سمجھا کہ میں جماعت کو شرک کے متعلق تجزیہ کر کے بتاؤں کہ شرک کیا ہے اور دوسرے تعلقات شرک سے الگ اور ممتاز کیسے ہوتے ہیں۔ورنہ تو ہر انسان کو اپنی بیوی سے بھی محبت ہے، بچوں سے بھی محبت ہے ، دوستوں سے بھی محبت اور پیار ہے خدا سے بھی محبت کا دعوی ہے۔کیا یہ سب محبتیں شرک کی علامت ہیں ، کیا تو حید اس کا نام ہے کہ انسان ہر دوسری محبت سے خالی ہو جائے؟ اگر یہ ہو تو پھر ساری دنیا مشرکوں سے بھری پڑی ہو ایک بھی موحد آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔انبیاء بھی اپنے گردو پیش سے محبتیں رکھتے تھے، اپنے عزیزوں اور اقرباء سے ہی نہیں بلکہ غیروں سے بھی محبت کرتے تھے۔پس وہ