خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 534
خطبات طاہر جلد ۱۲ 534 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء ڈش انٹینا کے سلسلہ میں بھی ان کی راہنمائی فرمائی کہ تم بازار سے جو 60، 70 ہزار یا اس سے بھی زیادہ کالو گے میں تمہیں اصول سمجھا تا ہوں اس کے تابع تم خود بہت ہی ستا ڈش انٹینا بنا سکتے ہو ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی نے بھی بہت خدمت کی اور پھر پاکستان آکر ان کے بھائی نے دورہ کر کے جہاں جماعتوں کو غربت کی وجہ سے ڈش انٹینا لگانے کی توفیق نہیں تھی ان کو انہوں نے بجائے اس کے کہ 60، 70 ہزار میں لگاتے 13 14 ہزار میں لگا کر دکھا دیا۔انہی کے ذریعہ سے میرا تعارف بشارت صاحب سے ہوا جور بوہ میں ڈش ماسٹر کے طور پر معروف ہیں۔ان کی دکان کا نام بھی ڈش ماسٹر ہے۔انہوں نے سب سے پہلے قادیان اور پھر ہندوستان میں خدمت سرانجام دی اور تربیت کے دوران پانچ ڈش انٹینا بنا کر دکھائے اور اس طرح نو جوانوں کو تربیت دے کر ملک میں پھیلا دیا اور اس کے نتیجہ میں اب ہندوستان کے دور و نزدیک میں خدا کے فضل سے یہ خطوط مل رہے ہیں کہ جماعت بہت ہی راضی اور مطمئن ہے اور دشمن کے اوپر مایوسی چھا گئی ہے۔ایسے علاقوں کی خبریں آرہی ہیں جہاں دشمن دندناتا پھرتا تھا لیکن اب ڈش انٹینا کے ذریعہ وہاں سے معززین اور شرفاء نے جب خود خلافت سے براہ راست ایک تعلق قائم کیا ہے تو وہاں کا یا پلٹ رہی ہے اور دشمن کے حوصلے بالکل پھیکے پڑ گئے ہیں بلکہ ان میں سے ہی نکل نکل کر لوگ احمدی ہونے شروع ہو گئے ہیں اور اب جو حالیہ خوشخبری ہے وہ افریقہ سے متعلق ہے۔بشارت صاحب نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور ان کو غانا میں مرکز بنا کر دیا گیا جہاں افریقہ کے دوسرے ممالک سے نوجوانوں نے آکر تربیت حاصل کرنی تھی۔اس مرکز کے قیام کے سلسلہ میں غانا کے بعض مخلصین نے بھی بہت ہی خدمت کی تفصیل سے ان کے نام پیش کرنے کا وقت نہیں لیکن بشارت صاحب نے دس ملکوں سے آئے ہوئے بائیس افریقن احمدیوں کو ڈش انٹینا بنانے کی تربیت دی، بنا کر دکھایا اور پوری طرح اطمینان کر لیا کہ وہ اب جا کر خدا کے فضل کے ساتھ اپنے ملک میں اس کام کو جاری کر سکتے ہیں اور قیمت کا اتنا فرق ہے کہ وہاں مثلا غا نا میں جو ڈش انٹینا 8 ہزار ڈالر کا لگتا تھا انہوں نے وہ ڈش انٹینا اس کے تمام خرچ ملا کر 600 ڈالر میں بنا کر دکھایا اور اسے وہاں رائج کر دیا۔چنانچہ جب سب سے پہلے خود بنائے ہوئے ڈش انٹینا کے ذریعہ غانا میں ۲ جولائی کا خطبہ سنا گیا تو امیر صاحب لکھتے ہیں کہ عجیب کیفیت تھی جو بیان سے باہر ہے اور پھر اس سے اگلا خطبہ سنتے