خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 517

خطبات طاہر جلد ۱۲ 517 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء سمجھیں گے وہ عمل چھوڑ بیٹھیں گے۔مطلب یہ ہے کہ اس اقرار کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل سے الگ ہوکر اقرار کیا جائے بلکہ اس اقرار کا اصل مطلب یہ ہے کہ یہ اقرار عمل میں جاری ہو جائے اور یہ اقرار اگر سچا ہو تو لازم ہے کہ عمل میں جاری ہو ،رک ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے کہ کوئی حقیقت میں لَا إِلَهَ إِلَّا الله کی صداقت کا اس کی کنہہ سے واقف ہوتے ہوئے اقرار کر رہا ہو۔اس کے مضمون کو سمجھتے ہوئے اقرار کر رہا ہو اور پھر بے عمل ہو کیونکہ تو حید کا اعمال سے اور اعمال کی تمام تفاصیل سے گہرا تعلق ہے اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے لئے تو حید کے مضمون کو بار بار سمجھنا اور اسے آگے بیان کرنا بہت ضروری ہے۔میں نے جو آیات آپ کے سامنے تلاوت کیں اب میں ان کا ترجمہ پیش کرتا ہوں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ إِنَّنِي هَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ اے محمد! یہ اعلان کر دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے دی ہے یا صراط مستقیم پر چلا دیا ہے۔وہ صراط مستقیم جو ہم پانچ وقت کی نمازوں میں بار بار خدا سے طلب کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتح: ۴) اے محمد تو اعلان کر کہ میں اس صراط مستقیم کو پاچکا ہوں اور وہ ہے کیا ؟ دِینًا قِيَما دین قیم ہے مِلَّةَ ابْرُ هِیمَ حَنِيفًا ابراہیم جو حنیف تھا اور اس کی ملت جس دین پر قائم تھی یہ وہ دین ہے وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اس کا تعارف اگر کرایا جائے تو اس کا خلاصہ اس سے بہتر نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی پہلو سے بھی مشرک نہیں تھا۔اگر چہ اسلام نے جتنا تو حید پر زور دیا ہے اس کا عشر عشیر بھی دیگر مذاہب میں دکھائی نہیں دیتا مگر کسی مسلمان کا یہ دعوی کرنا کہ اسلام ہی نے پہلی بار تو حید کو پیش کیا ہے ہرگز درست نہیں کیونکہ دین قیم جس کا اس آیت میں ذکر ملتا ہے اس کی تعریف دوسری جگہ سورہ کینہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ و يَقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكُوةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ) (اليه (۲) ت بود کہ دین قیمہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ تمام وہ مذاہب جن کی بنیاد کتاب پر رکھی گئی یعنی کلام الہی پر رکھی گئی ان تمام مذاہب کا خلاصہ یہ تھا کہ ان کو خدا تعالیٰ نے توحید اور خالص توحید پر جو حَنِيفًا