خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 516

خطبات طاہر جلد ۱۲ 516 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء جارہی ہوتی ہے۔کہیں یہ کہ عوام الناس کے اوپر کیا اثر پڑے گا یہ ایک بت ہے جو ان کے فیصلے کے او پراثر انداز ہورہا ہوتا ہے، کہیں یہ کہ حکومت کے سربراہوں پر کیا اثر پڑے گا جنہوں نے عدلیہ پر فائز جوں کی ترقیاں دینی ہیں کسی کو مستقل حج بنانا ہے، کسی کو چیف جسٹس مقرر کرنا ہے تو شرک ہی ہے جو ہر جگہ انسانی معاملات میں زہر گھول رہا ہے اور حقیقت میں قرآن کریم نے جو اس زمانے کی قسم کھائی ہے کہ جس میں گھانا ہی گھاٹا ہے وہ یہی زمانہ ہے اور شرک ہی ہے جس نے سارے عالم کو گھاٹے میں مبتلا کر دیا ہے۔توحید کے متعلق اس سے پہلے بھی میں نے خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا لیکن یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ بار بار جماعت کے سامنے پیش ہونا چاہئے اور بڑی وضاحت کے ساتھ اس کے ہر پہلو کو جماعت کے سامنے رکھنا چاہئے کیونکہ اسی میں سارا دین ہے۔سارے دین کا خلاصہ توحید ہی اصلى الله ہے۔تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی امے کی دو مواقع کی دو حدیثیں میرے پیش نظر ہیں۔ایک موقع پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور ایک موقع پر ایک اور صحابی کو نصیحت فرمائی کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله میں بھی سب کچھ ہے اگر تم لا اله الا اللہ کا مطلب سمجھ جاؤ اور اس پر قائم ہو جاؤ تو اس سے نجات وابستہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ والی نصیحت کے متعلق یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عمر نے جب حضرت ابو ہریرہ کو یہ اعلان کرتے سنا کہ من قال لا اله الا الله فدخل الجنة كہ جس کسی نے بھی یہ اعلان کیا یا یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا تو حضرت عمران کو گریبان سے پکڑ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں واپس لائے اور یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ جو بات کہہ رہے ہیں آپ نے فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے کچھ نا واقف لوگ یا انجان لوگ دھو کے میں پڑ جائیں گے اور دین کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔وہ ا صلى الله لوگ جو اس کے مطلب کو نہیں پاسکیں گے وہ کچھ اور نہ سمجھ بیٹھیں چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہی ہے نے اس عرضداشت پر حضرت ابو ہریرہ کو اس اعلان سے منع فرما دیا۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ۴۶) دوسری حدیث میں آنحضرت ﷺ کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ ایک نوجوان صحابی سواری میں آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کو آپ نے جو نصیحتیں کیں ان میں یہ بھی ذکر تھا یعنی لا إله إِلَّا اللہ کا۔اس نے پوچھا کہ کیا میں اس کا اعلان کروں تو رسول اللہ نے فرمایا نہیں جو لوگ نہیں