خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 508
خطبات طاہر جلد ۱۲ 508 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء افکار جاگ اٹھتے ہیں اور نئے نئے مضامین سوجھنے لگتے ہیں اور اگر ترجمہ پڑھ کر اس کے برعکس کیفیت ہو تو قصور تو مترجم کا ہے لیکن پڑھنے والے کو کیا پتا ؟ وہ تو ترجمے سے ہی اور ترجمے کے آئینے میں اصل مصنف کی تصویر دیکھ رہا ہوتا ہے۔اس لئے ترجمے کا کام بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن لازم ہے کہ دونوں زبانیں بیک وقت اچھی آتی ہوں۔پس نار و بین بچوں کے لئے میری نصیحت ہے کہ آپ نارویجین سیکھ رہے ہیں اور ماشاء اللہ بہت اچھی بولنے لگ گئے ہیں لیکن اردو لکھنا پڑھنا بھول گئے ہو جس طرح جرمن بچوں کو میں نے کہا تھا تم اگر صرف جرمن سیکھ جاؤ اور اردو بھول جاؤ تو ہمارے لئے جیسے پیا گھر رہے ویسے پیا بدلیں، ہمیں کیا فرق پڑا تم نے کچھ سیکھا اور غیروں کے ہو کر رہ گئے۔ہمارے تو نہ بنے یعنی آپ دین کے لحاظ سے خدمت کی اہلیت نہیں رکھتے۔پس جو باہر سے آتے ہیں ان کا فرض ہے کہ اردو سیکھیں تا کہ اس خلاء کو خود پورا کرنے کی کوشش کریں اور جو احمدی بچے اردو بولنے والے ماں باپ کی نسل میں سے ہیں ان کو چاہئے کہ اس زبان میں اپنے ماں باپ سے بہت زیادہ علم حاصل کریں کیونکہ اکثر اردو بولنے والے ماں باپ کی اپنی اردو بڑی ناقص ہے اور بہت سے ایسے ہیں جو بظاہر اردو بولنے والے علاقوں سے آتے ہیں مگر دراصل وہ پنجاب کا علاقہ ہے جو اردو کا ہے ہی نہیں۔انہی خاندانوں میں اردو اچھی ہے جہاں با قاعدہ نسلاً بعد نسلاً اردو بولی گئی ہے۔باقی جگہ تو روز مرہ پنجابی بولی جاتی ہے اس لئے اردو بے چاری کو تو بہت سے نقصانات ہیں جن کو پورا کرنا ہوگا اور پھر اس زبان میں ترقی کر کے یہ اہلیت حاصل کرنی ہوگی کہ ہم اس کا ترجمہ صیح طور پر دوسری زبانوں میں پیش کر سکیں۔اس کا تعلق صرف مذہبی زبان سے نہیں ہے بلکہ پوری زبان سے ہے۔جس نے اردو سیکھنی ہے اس کو اردو ادب پڑھنا ہوگا ، جس نے عربی سیکھنی ہے اس کو عربی ادب پڑھنا ہوگا۔محض قرآن پڑھ کر عربی نہیں آئے گی کیونکہ قرآن تو سارے عربی ادب کا خلاصہ ہے۔زبان کا جو حسن ساری عربی دنیا میں عربی زبانوں میں پھیلا پڑا ہے اس کا خلاصہ قرآن کریم ہے۔اسی لئے قرآن کو سمجھنے کے لئے بعض دفعہ صحابہ کسی بدوی سے پوچھا کرتے تھے کہ بتاؤ یہ محاورہ تمھارے ہاں کیسے بولا جاتا ہے اور عجیب بات ہے کوئی محاورہ کسی بدو قوم سے تعلق رکھتا تھا کوئی کسی بدو قبیلے سے تعلق رکھتا تھا لیکن بعد میں جب مسلمان ہوئے تو سب نے مل جل کر پھر قرآن کی اس طرح خدمت کی کہ وہ محاورے جو سارے عرب میں پھیلے