خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد ۱۲ 497 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء ہیں کہ جب بھی زندگی نے ترقی کرتے ہوئے ابتدائی انسانیت کا روپ دھارا ہے۔اس وقت ایک ہی ماں باپ تھے جن سے یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اور پھر بعد میں تبدیلیاں شروع ہوئی ہیں اور وقت نے مختلف موسموں، مختلف حالات ، اقتصادی اور دوسرے سب حالات نے مل کر تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کی ہیں جس کے نتیجے میں انسان کی شکل بھی دوسرے انسانوں سے بدلنی شروع ہوگئی اور مختلف ہونے لگ گئی۔پس زبانوں کا آپس میں اتنا فرق ہو جانا کوئی غیر طبعی یا غیر معقول بات نہیں لیکن علمی لحاظ سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک بہت بڑے احمدی عالم اور فلسفی مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان کردہ خطوط پر بہت سی زبانوں کو عربی سے نکلا ہوا ثابت کر دکھایا ہے تو عربی زبان کو اولیت حاصل ہے اور یہ اولیت کوئی دنیا کی طاقت اس زبان سے چھین نہیں سکتی۔عربوں کے حالات خواہ کیسے بھی بگڑ جائیں مگر چونکہ قرآن عربی زبان میں ہے اس لئے دنیا کا کوئی انسان عربی زبان کی اولیت کو عربی سے چھین نہیں سکتا۔اس کی یہ فوقیت، اس کی یہ برتری بہر حال اس زبان میں باقی رہے گی اور جوں جوں اسلام پھیلے گا عربی دانی کی مزید ضرورت پیش آتی چلی جائے گی ، جہاں جہاں احمدیت اسلام کا پیغام لے کر پہنچے گی وہاں قرآن سکھانے کا انتظام بھی ہو گا اور ابتداء تھوڑی عربی سے گزارہ چلے گا لیکن بالآخر یہ ہوکر رہے گا کہ عربی دنیا کی سب سے بڑی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان بن کر رہے گی۔پس مذہبی زبانوں میں اولیت عربی کو ہے اور اس کی طرف ہمیں مزید توجہ کرنی چاہئے۔اس کی طرف توجہ کے لئے سکولنگ (Schooling) بڑی ضرورت ہے۔اب میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن مجید کی زبان سمجھتا ہوں یعنی جس حد تک ایک انسان کو خدا کی طرف سے توفیق ملتی ہے وہ سمجھ سکتا ہے، احادیث کی زبان سمجھتاہوں، اگر صحیح عربی بولی جائے تو سمجھ لیتا ہوں لیکن بولنے کا محاورہ اس لئے نہیں کہ میری Schooling بہت ناقص تھی جس زمانے میں ہم قادیان میں پڑھا کرتے تھے وہ بد قسمتی سے تعلیمی لحاظ سے ایک ایسا دور تھا جبکہ سکول اپنے گراف میں سب سے نچلے حصے کو چھورہا تھا اور عربی تعلیم بالکل واجبی سی تھی ، گرائمر سکھا دی جاتی تھی اور لکھی ہوئی عربی سمجھانے پر ہی اکتفا کی جاتی تھی یعنی اسی کو کافی سمجھا جاتا تھا لیکن بول چال سکھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔یہاں تک کہ جب ہم جامعہ میں گئے تو وہاں بھی کوئی ایسا انتظام نہیں تھا جس سے عربی بول چال کا