خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد ۱۲ 496 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء قرآن کریم نے پہلے قرآن کا ذکر فرمایا ہے پھر انسان کی تخلیق کا ، پھر انسان کے بیان کا، جس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت خدا تعالیٰ کا سب سے عظیم الشان جلوہ جو ظاہر ہوا ہے وہ قرآن کریم ہے۔اس جلوے کے تابع دوسرے جلوے ہیں اور اس میں انسان کی تخلیق کا ایک جلوہ ہے اور انسان کی تخلیق کے جلوے کو پہلے جلوے سے ملانے کے لئے جو پل بنایا گیا ہے اس کا نام الْبَيَانَ ہے اس نے انسان کو البیان سکھا دیا تا کہ وہ قرآن کو سمجھ سکے اور وہ بیان عربی بیان تھا کیونکہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے وہ بارہ اصول بیان فرمائے جن کی روشنی میں تمام زبانوں کا عربی سے تعلق ثابت کیا جاسکتا ہے اور حضرت شیخ محمد احمد صاحب مرحوم و مغفور نے اس پر بڑی محنت کی انہوں نے چالیس سے زائد زبانوں کو عربی سے ملا کر دکھا دیا کہ اس طرح ان زبانوں کا تعلق عربی سے ثابت ہوتا ہے ان کا بہت سا عالمانہ کام ہے جو جماعت کے پاس اس وقت امانت پڑا ہوا ہے۔انشاء اللہ انتظام کیا جا رہا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ تمام عالمانہ جواہر پارے دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں لیکن میں جو مضمون بیان کرنا چاہتا ہوں واپس اس کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ عربی الہامی زبان ہے خدا نے الہام فرمائی ہے اور تمام دوسری زبانیں اس زبان سے نکلی ہیں اور رفتہ رفتہ ان کا انتشار ہوا ہے۔آدم سے یعنی وہ آدم جس کو خدا تعالیٰ نے پہلے زبان سکھائی ، اس آدم کے بعد سے مختلف جگہوں پہ جہاں جہاں آدم کی اولا د پھیلی ہے وہاں یہ زبانیں پہنچیں اور مختلف اثرات کے تابع ان میں کچھ کمی ہوئی کچھ زیادتی ہوئی کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں یہاں تک کہ وہ پہچانی بھی نہیں جاتیں۔اب یہ بات کہ اتنا فرق پڑ جائے کہ ایک ہی زبان سے نکلی ہوئی زبانیں ہوں اور آپس میں اتنی مختلف ہو جائیں کہ یقین نہ آئے کہ یہ اسی آدم کی اولاد ہیں، اس کا انسانوں کی ظاہری شباہت سے بھی ایک تعلق ہے۔افریقہ کا انسان بھی بالآخر اسی آدم کی اولاد ہے، جس آدم کی اولا د ناروے کے باشندے ہیں ناروے کے باشندے بھی بالآخر اسی آدم کی اولاد ہیں ، جس آدم کی اولا د ہندوستان کے بسنے والے ہیں یا چین میں رہنے والی قومیں ہیں یا تبتی قو میں ہیں۔غرضیکہ مختلف قوموں پر نظر ڈال کے دیکھیں ان کے رہن سہن، ان کی بود و باش تو مختلف ہیں ہی ان کی شکل و شباہت اور فیچر ز یعنی بنیادی نقوش بھی اتنے مختلف ہیں کہ بظاہر یقین نہیں آتا کہ ان کا سلسلہ بالآخر ایک ہی آدم تک پہنچ سکتا ہے لیکن سر دست تو دنیا کی معلومات یہاں تک ہی