خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد ۱۲ 45 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء صدام باز نہیں آرہا۔ایک کے بعد دوسری گستاخی ، دوسری کے بعد تیسری گستاخی اور اسرائیل نے 47 ایسی گستاخیاں کیں اور ایسے ایسے ریزولیوشنز کو اس نے پاؤں کی ٹھوکر کے ساتھ دھتکارا ہے جیسے کوئی انسان ذلیل کتے کو جوتی کے ساتھ مارتا ہے اور اس نے کہا کہ مجھے تمہاری کوئی بھی پرواہ نہیں ہے کرتے جاؤ ریزولیوشنز میں قبول نہیں کروں گا لیکن یونائیٹڈ نیشنز کی غیرت وہاں نہیں کو دی ، نہ جاگی، نہ اس میں کوئی حرکت کوئی تموج پیدا ہوا اور امریکہ ان باتوں کی طرف جانتے ہوئے بھی دھیان نہیں کرتا ، اس طرف نگاہ ہی نہیں جا رہی۔یہ سارے مظالم دن بدن عالم اسلام کو چنگل میں جکڑتے چلے جارہے ہیں اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ مسلمان لیڈر ان ظالموں کے ساتھ ہیں جو مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں اور کوئی غیرت نہیں ہے جو ان کے دلوں کو جھنجھوڑے، ان کے ضمیر کو بیدار کرے لیکن سوال صرف یہ نہیں ہے سوال عقل کا ہے، جہاں غیرت ہے وہاں عقل کا فقدان ہے اس قدر بیہودہ اور بیوقوفوں والا رد عمل دکھایا جاتا ہے کہ جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور جس کے نتیجہ میں لازماً مزید نقصان پہنچتا ہے۔میں نے اپنے ایک خطبہ میں نصیحت کی تھی کہ اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی حکومت، اسلامی حکومت کا نام چھوڑو اور اسلام نے انصاف کی حکومت کا جو تصور پیش کیا ہے اس کو پکڑو، ورنہ پھر دوسرے ممالک میں ہندو مذہب کی حکومتیں اور عیسائی مذہب کی حکومتیں جب قائم ہونا شروع ہو جائیں گی تو مسلمانوں کو کہیں کوئی جگہ نہیں ملے گی لیکن کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور واقعہ یہ ہے کہ اس احمقانہ رجحان کو لازماً کچلنا ہوگا۔مذہب خدا کی طرف سے ہے اور اسلام سب سے زیادہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ تمام مذاہب خدا کی طرف سے ہیں۔ناممکن ہے کہ مذہب سچا ہو اور مذہب کے نام پر دوسرے انسانوں سے تفریق کی اجازت دے اس لئے جتنے مذاہب ہیں سب نے آغاز پر انسانیت کی تعلیم دی ہے، انصاف کی تعلیم دی ہے لیکن مذہب کے نام پر غیر مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کوقتل کرنا، ان کی عزتیں لوٹنا، ان کی جان مال کو نقصان پہنچانا یہ تو شیطانی تعلیم ہے، مذہبی تعلیم ہے ہی نہیں۔پس مذہب کے نام پر ایسی حکومت جو دوسرے انسان کے حقوق غصب کرنے کی تعلیم دیتی ہودہ غیر مذہبی ، غیر اسلامی، غیر اصلاحی حکومت ہے۔اس کا نام شیطانی حکومت ہوتا ہے پس جہاں بھی آپ مذہب کو غلط سمجھے ہیں وہ آپ کی سمجھ کا قصور ہے۔لیکن ایک راہ نما اصول ہے جو کبھی دھوکہ نہیں