خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 480 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 480

خطبات طاہر جلد ۱۲ 480 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ عیسائیت کی تاریخ جو عیسی علیہ السلام نے بنائی تھی وہ آسمان سے زمین پر اترے تو وہ اس شان سے اتری کہ تمام دنیا کے تمام بر اعظموں پر غالب آگئی اور آج عیسائیت کی تاریخ ہی وہ اہم ترین تاریخ ہے جو اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ایک وہ تاریخ ہے جس کا آغاز حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا اور اس کے متعلق قرآن کریم کا یہ وعدہ ہے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبه ۳۴) کہ یہ وہ تاریخ ہے، یہ وہ مذہب ہے جو تمام دنیا پر لازم غالب آ کر رہیں گے یہی وہ تاریخ ہے جو باقی رہے گی جسے عزت اور فخر سے یاد کیا جائے گا اور یہی وہ مذہب ہے جس نے تمام دنیا کے مذاہب پر غلبہ پانا ہے کوئی ایک مذہب بھی ایسا نہیں رہے گا۔جو اسلام کے سامنے کوئی حیثیت رکھتا بیہ وہ تاریخ ہے جسے ہم از سر نو قلم کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں یہ تاریخ اس دنیا کے تاریخ دانوں کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن آسمان پر لکھی جارہی ہے۔پس یہ چھوٹا سا قافلہ جو آج یہاں آیا ہے اس دنیا کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔لیکن میں خدا کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ ایک زمانہ آئے گا جب یہ تاریخ آسمان سے زمین پر اترے گی اور ناروے کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کی دوسری قو میں بھی فخر سے ان دنوں کو یاد کریں گی کہ جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پیشگوئی کو پورا کرتے ہوئے عاجزوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ کل یہاں پہنچا اور آج یہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا نام بلند کر رہا ہے۔خدائے واحد کا نام بلند کر رہا ہے اور یہ جمعہ یہاں ادا کر رہا ہے پس اصل تاریخ تو وہی ہے جس کا تعلق خدا سے ہو، جو خدا کی باتیں کرنے والی تاریخ ہو۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اور اکثر کے نام تاریخ میں نفرت سے یاد کئے جاتے ہیں مگر جو تاریخ آسمان سے اترا کرتی ہے اس تاریخ کو ہمیشہ محبت سے یاد کیا جاتا ہے۔پس قرآن کو دیکھیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتا ہے یا دوسرے انبیاء کا ذکر کرتا ہے جن کو ان کی قوموں نے تحقیر کی نظر سے دیکھا اور ادنیٰ اور معمولی سمجھ کر ان کو مٹانے اور صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی کوشش کی انہی کے نام ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ سلامتی کے ساتھ یاد کئے جائیں گے ، ان پر سلام ہوگا، پہلوں پر بھی آخرین پر بھی۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی کوشش کرنے والے آج کہاں ہیں جن کا دنیا میں کہیں عزت سے نام لیا جاتا ہو، اگر لیا جاتا ہے تو لعنتوں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ان لعنتوں کے ساتھ جو نسلاً بعد نسل ان کا