خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد ۱۲ کاذب ہے۔۔۔" 66 459 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء یہ جو ابتلاء آتے ہیں تو ان کے ساتھ کچھ خشک پتے جھڑ جاتے ہیں کچھ خشک ٹہنیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور جلائی جاتی ہیں لیکن جو کچھ بچتا ہے وہ مزید نشو ونما پاتا ہے اور حیرت انگیز طریق پر پھولتا اور پھلتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔پس بد نصیب ہیں وہ جو دور ابتلاء میں گر جائیں اور بہار کا زمانہ نہ دیکھیں۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے۔۔۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر کی جماعتیں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دور ابتلاء میں لمبے صبر کے نمونے دکھائے۔کچھ براہ راست تکلیفوں میں مبتلا کئے گئے۔کچھ اپنے پیاروں کی تکلیفوں میں مبتلا ہوئے ان سب کے لئے خوشخبری ہے۔فرماتے ہیں۔وو۔۔۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔“ 66 الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه: ۳۰۹) یہ وہ دوسرا دور ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ داخل ہو چکی ہے اگر چہ اس عرصہ میں کبھی بھی جماعت احمد یہ پر برکتوں کے دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ جس تیزی کے ساتھ برکتوں کے نئے نئے ابواب کھل رہے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر برکتوں کے نزول کے لئے ہر روز نئے دروازے کھولے جارہے ہیں اور ڈھیروں برکتیں پھینکی جارہی ہیں۔یہ وہ دور ہے جس میں بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ برکتیں سنبھالی نہیں جائیں گی۔وہ لوگ جو باغوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ان کو پتا ہے۔ایک زمانہ ہوتا ہے کہ انتظار ہی ہوتا ہے اور کبھی کھٹا پھل بھی ہاتھ آجائے تو انسان اس کو دیکھ دا کھ کر چکھ کر کچھ لطف اٹھاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ٹھیکہ لگے اور کبھی کوئی پکا ہوا پھل بھی میسر