خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد ۱۲ 441 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء پتا ہے کہ کیا کیا گناہ تھے۔وہ کہے گا ہاں میرے رب ! مجھے سب پتا ہے تو خدا کہے گا کہ دنیا میں کی تھی تو پھر اب بھی کرتا ہوں۔اس مضمون کا بھی بخشش کے فلسفے کو سمجھنے سے بہت گہرا تعلق ہے بالعموم وہ لوگ جو اپنے بھائی کو بے پردہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور ستاری کا پردہ اپنے عزیزوں یا دوستوں یا دشمنوں سے اٹھا دیتے ہیں ان لوگوں کے لئے اس میں ایک تنبیہ ہے کیونکہ میرا اس معاملہ میں بہت وسیع تجربہ ہے کہ وہ لوگ جن کو ستاری کی عادت ہو اور کوشش کرتے ہوں (غلطیاں تو انسان سے ہوتی ہی ہیں ) بد نیتی سے کسی کا پردہ چاک نہ کیا جائے تو اللہ بھی ان کی ستاری فرماتا ہے۔بے تکلفی اور پیار کی باتوں میں بعض دفعہ انسان کسی غلطی کا ذکر بھی کر دیتا ہے مگر وہ اور بات ہے۔واقعہ کسی کی بدی سے پردہ اٹھانا اور اسے دنیا میں ذلیل ورسوا کرنے کی نیت سے ایسا کرنا، یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے اپنی ستاری کا پردہ اٹھا لیتا ہے اور جس سے دنیا میں پردہ اٹھ جائے تو پھر آخرت میں بھی وہ پردہ اٹھ جاتا ہے۔پس اگر آخرت میں اپنے گناہوں پرستاری کا پردہ ڈالنے کی تمنار کھتے ہو تو اس دنیا میں اپنے بھائیوں اور عزیزوں کی کمزوریوں پر اپنی ستاری کا پردہ ڈالا کرواس سے اللہ تعالیٰ کے حضورستاری کی زیادہ توقع رکھی جاسکتی ہے۔یہ حدیث بخاری کتاب التوحید سے لی گئی ہے اور مسلم کتاب التوبہ میں بھی یہ حدیث شامل ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کی طرف سے ہمیں یہ بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایسی احادیث جن میں حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ واضح طور پر فرما ئیں کہ میرے خدا نے مجھے یہ فرمایا ہے یا خدا ایسا فرماتا ہے اسے حدیث قدسی کہتے ہیں یعنی قرآن کریم کی آیات کے علاوہ بھی خدا تعالیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے بکثرت ہم کلام ہوا ہے۔رؤیا کی صورت میں بھی اور ظاہری صورت میں کشفی صورت میں بھی اور بہت سی جگہ آپ کی طرز بیان سے پتا لگ جاتا ہے کہ خدا کے سمجھانے کے بعد آپ نے ایسی بات کہی ہے لیکن ہر جگہ ذکر نہیں ملتا۔اس لئے بعض احادیث قدسی میرے نزدیک احادیث قدسی تقریری ہیں یعنی ان کا مضمون ثابت کرتا ہے کہ یہ حدیث قدسی ہے لیکن بعض احادیث قدسی ایسی ہوتی ہیں جن میں راوی بیان کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے واضح طور پر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہا ہے پس یہ ان احادیث