خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد ۱۲ 421 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء میں اللہ کا تقویٰ رکھنے والے ایسے بزرگ اولیاء پیدا ہونے لگیں گے جن کی دعائیں جماعت کے لئے مزید مددگار بنیں گی ، جن کے وجود خدا نما ہو جائیں گے۔جن کو دیکھنا صداقت کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔اُن کی نیکی کی برکت سے آپ کو بہت سے پھل لگیں گے جن سے آج آپ محروم ہیں۔پس سارا زور اس بات پر دیں کہ متقی اللہ سے تعلق رکھنے والے انسان پیدا کریں اور یہ پیدا کرنا بہت محنت چاہتا ہے، بہت صبر چاہتا ہے، سلیقہ چاہتا ہے، دعاؤں کا تقاضا کرتا ہے، محنت کے ساتھ ایک ایک کر کے کام کرنا شروع کریں اگر آپ مہینے میں ایک آدمی کو بہتر انسان بنا دیتے ہیں، اگر اُس کی کمزوریاں دور کرتے ہیں، اُس کے لئے خیرات اور نیکیوں کی دعائیں کرتے ہیں اور ہر کمزوری کے بجائے ایک خوبی اُس کے دل میں سجا دیتے ہیں۔تو سمجھیں کہ آپ نے نجات پالی۔آپ خدا کے حضور نجات یافتہ شمار کئے جائیں گے لیکن ایک نہیں ، دو نہیں آپ نے تو لاکھوں کو تبدیل کرنا ہے، اُن لاکھوں نے پھر کروڑوں، اربوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔یہ وہ بڑا کام ہے جو اس صدی کے آغاز میں ہم نے اس سلیقے سے کرنا ہے کہ آنے والی صدی ہمیں نمونے کے طور پر دیکھے اور ہمارے بتائے ہوئے رستوں پر ہماری چال کے ساتھ ، ہماری اداؤں کے ساتھ چلے اور ہر چلنے والا عملاً آپ کو دعائیں دے رہا ہو۔جنہوں نے پہلے آکر ان کو چلنے کے سلیقے سکھائے۔یہی وہ مضمون ہے جو درود شریف میں دراصل کار فرما ہے۔حضرت اقدس محمد رسول الله الا اللہ کے لئے جب بھی ہم دل کی گہرائیوں سے درود پڑھتے ہیں تو اس درود کا تعلق کسی ایسی نیکی سے ہوتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کے نتیجے میں آپ کو عطا ہوتی ہے۔اگر اس درود کا تعلق کسی نیکی سے نہ ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ درود محض منہ کی باتیں ہیں کوئی حقیقت نہیں۔سارا دن کوئی درو در شمار ہے اگر جذ بہ احسان کے ساتھ یہ درود زبان سے نہ اٹھے اگر اس کا تعلق آنحضرت ﷺ کے کسی ایسے احسان کے ساتھ نہ ہو جو حسن بن کر اُس کی ذات میں جاری ہو گیا ہو۔تو یہ درود ایک فرضی بات ہے اور یہی وہ درود ہے جو آپ کے لئے آگے آنے والی نسلیں پڑھا کریں گی اگر آپ حضرت اقدس محمد رسول اللہ الا اللہ کے احسانات پر نظر رکھتے ہوئے اپنی ذات پر اُن کو جاری کرتے ہوئے ، محسوس کرتے ہوئے یہ دیکھ کر کہ اُس ازلی و ابدی آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہمیں بطور