خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد ۱۲ 420 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء سے سجائیں اور ہر شخص اپنا جائزہ لے کہ مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں جن آنے والوں کو میں نے سنبھالنا ہے، جن کی میں نے تربیت کرنی ہے۔جن کو آگے نشو و نما کے طریق سکھانے ہیں، جن کو بڑھنا، پھولنا اور پھلنا بتانا ہے کہ کیسے ہوا کرتا ہے؟ مجھے اگر یہ باتیں معلوم نہیں ہوں گی تو یہ میں کیسے کروں گا ؟ اپنے گھر پر نظر رکھے، ان نسلوں پر نظر رکھے ، جو وہ آگے بھیجنے والا ہے تا کہ آئندہ نسلوں کی ضرورتیں بھی اسی گھر سے پوری ہوں یہ وہ کام ہیں جن کا تصور کر کے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ کام ہے جس میں مجالس نے ہی سلطان نصیر بن کر میری مدد کرنی ہے اور ساری مجالس دراصل جماعت ہی ہے۔اگر جماعت من حیث الجماعت اُن ذمہ داریوں کو پورا کرے جن کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے۔اس سلیقے سے کام کریں جس کا میں نے تذکرہ کیا ہے تو وہ کام جو آپ کو مشکل دکھائی دیتے ہیں۔آسان ہونے شروع ہو جائیں گے، دن بدن آسان سے آسان تر ہوتے چلے جائیں گے میں نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ ایک کام جو اچانک لگتا ہے کہ سر پر پہاڑ آ پڑا ہے اور ایک نہیں دوتین مختلف سمتوں سے بعض پہاڑ لگتے ہیں ، سر پر آپڑنے کے لئے تیار۔جب دعا کرتا ہوں اور عاجزی سے خدا کے حضور اپنے آپ کو پیش کر دیتا ہوں تو وہ سارے پہاڑ روئی کے دھنکے ہوئے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کا کوئی وزن نہیں۔خود بخود ہلکے ہو جاتے ہیں اللہ کے فرشتے ان کو اٹھاتے ہیں اور سارے کام سلیقے سے خود بخود ہونے لگتے ہیں۔ساری دنیا میں جو نظام جماعت از خود پانی کی طرح بہہ رہا ہے خاموشی سے جاری وساری ہے۔وہ نظام کی خوبیاں جو آپ جماعت جرمنی میں ملاحظہ کر رہے ہیں، جماعت یو کے میں ملاحظہ کر رہے ہیں، یونائیٹڈ سٹیٹس میں ملاحظہ کر رہے ہیں جو کینیڈا میں ملاحظہ کر رہے ہیں، جو پاکستان اور بنگلہ دیش اور برما اور دیگر ممالک میں اور جاپان وغیرہ میں ملاحظہ کر رہے ہیں۔یہ محض اللہ کا احسان ہے، خدا کا فضل ہے ، دعاؤں کے نتیجے میں کاموں کو آسان کر کے جاری فرما دیتا ہے اور جاری کام یوں لگتا ہے کہ از خود چل رہے ہیں حالانکہ خدا کے فرشتے اُن کے پیچھے لگے ہوتے ہیں ، خدا کے فرشتے اُن کو جاری و ساری رکھنے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔پس اس طرح اگر آپ دعائیں کر کے سلیقے سے اپنے کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے درخت وجود کو بے انتہا برکتوں والے پھل لگیں گے۔ہر سال کثرت کے ساتھ آپ