خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد ۱۲ 416 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء کے کھاتے سے نکال دیں ، اُن کے لئے اور تدبیر سوچیں اور جو دوسرے ہیں جن کی طرف توجہ ابھی نہیں ہوئی اُن میں سے کچھ ان کے سپر د کریں۔جب میں کہتا ہوں اصرار کے ساتھ کام کے پیچھے پڑے رہیں۔چھوڑنا نہیں تو ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جو مثبت جواب دے ہی نہیں رہا اُسی کے ساتھ سر ٹکراتے رہیں اور اپنا وقت جو کسی اور جگہ بہتر مصرف میں کام آ سکتا تھا اس کے اوپر ضائع کرتے چلے جائیں بلکہ مراد میری یہ ہے کہ معقول حد تک ایک آدمی کو سمجھائیں اور جب وہ آپ کی طاقت سے باہر دکھائی دے تو اسی اصول کے تابع کہ اللہ تعالیٰ کسی کی طاقت سے بڑھ کر اُس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔آپ اپنے بوجھ کو مقامی سیکرٹری مرکزی سیکرٹری کی طرف منتقل کریں اور کہیں کہ ہم اب ان سے ہاتھ رہے ہیں ہمارے بس کے لوگ نہیں ہیں۔آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہے آپ کر لیں اور ہمیں موقع دیں اب ہم اپنی توجہ دوسری طرف پھیریں۔اس طرح آپس میں افہام و تفہیم کے ذریعے ایک حصے کو پکڑا اُس کو ٹھیک کیا۔دوسرے کی طرف منتقل ہوئے اُس کو سنبھالا ، اس پر وقت صرف کیا۔اس بات سے بالکل نہ گھبرائیں کہ نتائج جلدی ظاہر نہیں ہور ہے۔نتائج خواہ تھوڑے ظاہر ہوں، معین اور ٹھوس نتائج ظاہر ہونے چاہئیں۔وہ لوگ جو مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے نصیحت کی بڑا اثر ہوا۔مجھے پتا لگ جاتا ہے کہ کتنا اثر ہوا ہے؟ اگر اثر ہوا ہوتا تو اعداد و شمار بتاتے۔یہ بتاتے کہ اتنے آدمی یہ تھے اب یہ بن گئے ہیں۔یہ کہہ دینا کہ بہت اچھی تقریر ہوگئی ، بہت اثر ہوا۔اس سے کیا فائدہ ہوا۔ادھر اثر ہوا ادھر مٹ گیا اور جب مجلس سے الگ ہوئے تو بھول بھال گئے کہ کیا سن کے آئے تھے؟ اثر وہ ہوتا ہے جو قائم رہے جسے انسان محفوظ کر لے۔اپنے دلوں میں ، اپنے دماغ میں، اپنے اعمال میں، ہمیشہ کے لئے اُن کو سجا کے رکھے، اُن تبدیلیوں کی قدر کرے، خدا سے استقامت مانگے ، اس کو اثر کہتے ہیں۔پس یہ اثر تو تفصیلی توجہ سے ہوگا اور مستقل توجہ سے پیدا ہوگا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اس طریق پر باقی سیکرٹریاں بھی اپنے اپنے کام کریں لیکن اس کے ساتھ پیدا ہونے والی ضرورتوں کو بھی پیش نظر رکھیں۔وہ ضرورتیں کئی قسم کی ہوسکتی ہیں۔مثلاً تربیت کے معاملے میں یہ ضرورت پیش ہو سکتی ہے کہ آپ امارت کی طرف یا صدارت کی طرف وہ چند مشکل آدمی منتقل کر دیتے ہیں اُن کا کام یہ نہیں ہے کہ رپورٹ پڑھ کر پھر کہہ دیں کہ اچھا یہ لوگ ہاتھ سے گئے۔اُن کا کام یہ ہے کہ جائزہ لیں ان لوگوں پر اور کون کون سے اثر رکھنے والے لوگ ہیں۔