خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد ۱۲ 415 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء حدیثیں لکھ کے دیں لیکن اکٹھی کتا ہیں نہ بھیجیں لمبی مضمون نگار یاں کام نہیں دیا کرتیں۔وہ لوگ جو تربیت کے محتاج ہیں لمبی تقریریں پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوا کرتا۔اس لئے وہ ایک دو چھوٹی چھوٹی باتیں بھجوائیں ، چھپوا کر یا کمپیوٹر میں ڈال کر کاپیاں بنوالیں اور اپنے مقابل کے سیکرٹری تربیت کو یہ سمجھائیں کہ معین طور پر ایسی ٹیم تیار کرو جس کے سپر د ایک ایک آدمی ہو یا کسی میں زیادہ طاقت ہے تو دو دو آدمی ہوں۔آئندہ مہینہ وہ جو محنت کریں اُن میں یہ یہ صیحتیں کریں انہیں اس طرح سمجھانے کی جو یہ یہ کوشش کریں اور پھر معین نتیجے سے مطلع کریں۔فلاں فلاں شخص نے اللہ کے فضل سے نماز شروع کر دی ہے، فلاں فلاں شخص بدگمانی کرتا تھا اس نے وعدہ کیا ہے کوشش شروع کر دی ہے، فلاں شخص میں یہ کمزوریاں تھیں وہ ان سے باز آ گیا ہے۔فلاں میں رجحان تھا کہ گندی مجالس میں جائے ،شراب کی مجلسوں میں بیٹھے ، ان سے بداثر کو قبول کرے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن مجالس سے اس نے اجتناب شروع کر دیا ہے۔یہ رپورٹیں ہیں جو حقیقی ہیں جو کوئی معنی رکھتی ہیں۔اور ہر مہینے کا کام سپرد کرتے وقت اس آیت کریمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور یہی دعا ہمیں سکھاتا ہے کہ اے خدا! ہم سے ایسا ہی سلوک فرما۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ:۲۸۷) کا اعلان ہے کہ ہرگز خدا کسی جان پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اور پھر دعا یہ سکھا دی رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (البقره: ۲۸۷) اے خدا تو ایسے ہی کیا کرتا ہے مگر پھر بھی ہماری دوبارہ یہ التجا ہے کہ ہم پر ایسے بوجھ نہ ڈالنا جو ہم اٹھا نہ سکیں ، جو ہماری کمر توڑ دیں۔تو یہ بنیادی نکات ہیں تربیت کے ان دو آیات میں عظیم الشان قوموں کی اصلاح کے راز بیان فرما دیئے گئے ہیں اور بڑے کاموں کو آسان کرنے کے طریق سکھا دیئے گئے ہیں۔پس اُتنا اتنا کام ایک وقت میں کسی مجلس کے کسی عہدیدار کے سپرد کریں جتنا وہ سمیٹ سکتا ہو، سنبھال سکتا ہو، جس کا وہ بوجھ اٹھا سکتا ہو، جس بوجھ کو اٹھا کر وہ منزل تک پہنچا سکتا ہو اور پھر نگرانی رکھیں اس وقت تک اگلے کام نہ دیں جب تک یہ کام نہ ہو جائیں۔کہتے چلے جائیں، کہتے چلے جائیں، کہتے چلے جائیں، نہ تھکیں پوچھتے رہیں اور معین پوچھیں کہ فلاں بات میں بتاؤ کیا نتیجہ نکلا ، کوئی بہتری ہوئی کہ نہیں۔جب دیکھیں کہ ایک طرف سے بالکل جواب نہیں آرہا تو اُن مشکل لوگوں کو اُن