خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۱۲ 397 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء ان اخلاق حسنہ کو کوئی چیز تباہ نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا تعلق سجدوں سے ہے، اُن کا تعلق اللہ کی اطاعت سے ہے۔اُن کی جڑیں گہری ہیں، یہ وہ صفات حسنہ ہیں جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہیں۔انہی کا ذکر ہے جو انجیل میں فرمایا گیا ہے۔انجیل نے کوئی نئی صفات نہیں بیان کی ہیں حقیقت میں یہی وہ صفات ہیں جو محمد رسول اللہ ہے اور آپ کے ساتھیوں کی صفات ہیں جن کا انجیل میں ذکر ہے۔صرف اُن کی نشو و نما کی رفتار کا فرق دکھایا گیا ہے۔مثال ایسی دی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ آہستہ آہستہ نشو ونما ہو گی لیکن ہوگی یقینی اور رفتہ رفتہ پھیلتی چلی جائے گی۔صلى الله اب ہم انجیل میں دیکھتے ہیں کہ اُس نشو ونما کا ذکر کیسے کیا گیا ہے؟ مگر اگر اب میں نے یہ بات شروع کی تو پھر خطبے کا وقت گھنٹے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔آج تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ آج کا خطبہ براہ راست Televise نہیں ہورہا لیکن کل فرق پڑ جائے گا۔جب یہ خطبہ دوبارہ Televise کیا جائے گا اور آج اگر میں نے لمبا خطبہ دے دیا تو آئندہ خطبہ میں یہ Televise ہو نہیں سکے گا۔اس لئے مجبوری کی خاطر اب مجھے یہیں بات ختم کر دینی چاہئے۔میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو اقتباس پڑھ کر آپ کو سنایا تھا۔اُس کا تعلق قرآن کریم میں کن کن آیات سے ہے۔ایک تعلق تو أُخَرِيْنَ مِنْهُمُ (الجمعه: ۴) والی آیت سے ہے۔جس کے متعلق پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔دوسرا تعلق اس آیت کریمہ سے ہے جو سورہ فتح سے لی گئی ہے اور میں یہ آپ کو سمجھاؤں کہ یہ آیات جن سورتوں میں ہیں اُن کے عنوانات سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔سورۃ فتح صرف اُس فتح کی خوشخبری نہیں دے رہی جو اؤلین کی فتح تھی۔صرف اُس فتح کی خبر نہیں دے رہی جس کا تعلق حضرت رسول اکرم ﷺ کے اول زمانے سے تھا بلکہ آخرین کے زمانے میں بھی ایک عظیم فتح کی خوشخبری دے رہی ہے اور اسی لئے یہ دونوں ذکر جو موسی اور عیسی" کی کتب میں ملتے ہیں اُن کو اکٹھا بیان فرما دیا گیا ہے۔بتایا گیا کہ ایک فتح تو وہ ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ کے اس زمانے میں ہوگی جب محمد ﷺ اپنی جلالی شان کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے اور تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیلیں گے اور مضبوطی کے ساتھ زرخیز زمینوں میں جڑیں پکڑ جائیں گے۔ایک وہ زمانہ ہے جب موسیٰ" کی بجائے عیسی کی تمثیل اُن پر صادق آئے گی اور یہ آخرین کا زمانہ ہو گا۔وہاں جلالی شان کی طرح تیزی اور فوری طور پر جلوہ نمائی سامنے نہیں آئے گی بلکہ روئیدگی کی طرح صل الله