خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 396

خطبات طاہر جلد ۱۲ 396 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء تمہارے اندر سے ہر قسم کی خوبیاں رفتہ رفتہ مٹتی چلی جائیں گی اور تم شیطان کے بندے بن جاؤ گے اور خُطوتِ الشَّيْطن کی پیروی شروع کر دو گے اور ایسے وجود کی پیروی کرو گے جو ہر معاملے میں تمہارا دشمن ہے یعنی کوئی بھی بھلائی تمہیں حاصل نہیں رہے گی۔دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والی قو میں بن جاؤ گے یادشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے افراد بن جاؤ گے۔پس رزق حلال کے ساتھ مومن کی پاکیزہ زندگی کا بہت گہرا تعلق ہے اُس کے بغیر مومن کا تشخص ہو ہی نہیں سکتا۔یہ مضمون بھی ہے جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وہ اللہ سے فضل چاہتے ہیں، وہ اپنے زور بازو سے خدا کے قوانین تو ڑ کر فضل حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔جو بھی برکت مانگتے ہیں وہ اللہ سے مانگتے ہیں اور ایسی برکت مانگتے ہیں جس کے ساتھ اللہ کی رضا شامل ہو۔پس ہر وہ رزق جو خدا کے قانون کو تو ڑ کر اُس کی وصیت کو نظر انداز کرتے ہوئے حاصل کیا جائے وہ رضوان سے عاری ہوتا ہے۔فرمایا وہ رضوان والا رزق چاہتے ہیں۔وہ ہر برکت وہ مانگتے ہیں جس کے ساتھ اللہ کی رضا شامل ہو۔اس کے نتیجے میں کیا ہوتا بے سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ کہ سجدے کی ایک یہ بھی تعریف ہے کہ ہر بات جو انسان اپنے لئے چاہتا ہے زائد کے طور پر ، نعمت کے طور پر فضل الہی کے طور پر اُس کے ساتھ اللہ کی رضا کی شرط شامل ہے۔یہ وہ روح کا سجدہ ہے جس کے اثرات انسان کے چہرے پر ظاہر ہو جاتے ہیں، اُس کی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔پس یا درکھیں کہ وہ لوگ جو خدا کی رضا کے تابع زندگی بسر کرتے ہیں اُس سے فضل چاہتے ہیں ، اُس کی رضا چاہتے ہیں، یہ ایسی صفات نہیں ہیں جو اُن کے وجود کے اندر چھپی رہیں اُن صفات حسنہ کی روئیدگی اُس طرح اُن کے چہروں پر پھوٹتی ہے جیسے وہ بیج جو زرخیز زمین پر بویا جاتا ہے اور پھوٹتا ہے لیکن سطحی طور پر روئیدگی نہیں ہوا کرتی۔اُس کا گہرا تعلق اُس زرخیز زمین سے قائم ہوتا ہے۔اُس روئیدگی کو وہ مٹانہیں سکتا۔وہ بڑھتی ہے اور نشو ونما پاتی ہے۔اُن کی صفات حسنہ جن کا تعلق سجدے سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اندر اپنی جڑیں رکھتی ہیں۔اُن کے اثرات جب اُن کے چہروں پر ظاہر ہوتے ہیں تو اُن کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔بڑے سے بڑا ابتلاء آئے ، بڑے بڑے اختلافات پیدا ہوں، اُن کے قومی جھگڑے ہوں ، وہ جنگوں پر دھکیلے جائیں اور دشمنوں سے نبرد آزما ہوں ، تب بھی