خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد ۱۲ 393 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء چھوڑ جاتی ہیں تو اُن کی شدت جو ہے وہ دلوں کی سختی سے تعلق رکھتی ہے اور اُن کی نرمی سطح سے تعلق رکھتی ہے۔جو اُن مسلمانوں کی صفات ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بیان فرمائی گئیں اور آپ کے ساتھیوں کی ، وہ بالکل بر عکس منظر پیش کرتی ہیں۔اُن کی سختی ظاہری ہے لیکن دلوں میں گہری نرمی پائی جاتی ہے اور رحم پایا جاتا ہے اور یہ رحم وہی ہے جس کا ذکر آنحضرت مہ کی صفات میں بیان فرمایا گیا۔رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ (الانبیاء: ۱۰۸) تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔پس جو اشڈ آپ کے معنی بھی آپ کرنا چاہیں کریں لیکن رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کی بنیادی صفت کے مقابل پر اس کے الله مخالف معنی کرنے کی آپ کو اجازت نہیں۔کوئی اشد آء کا معنی آنحضرت ﷺ کے رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ سے ٹکرائے گا وہ معنی ٹوٹ جائیں گے ، وہ پارہ پارہ ہو جائیں گے مگر حضور اکرمی رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ کا جو تصور ہے وہ قائم رہے گا۔وہ عالمی تصور ہے، وہ غالب تصور ہے۔اُس تصور کی روشنی میں آپ کو آشد آ کے معنی کرنے پڑیں گے۔پس رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ سے مراد یہ ہے کہ حقیقت میں وہ رحم کرنے والے لوگ ہیں ، حقیقت میں وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے رحمت ہیں۔اُن کی شدت کفر سے تعلق رکھتی ہے، دراصل کفر کو قبول نہیں کر سکتے اور کفر کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، یہ وہ معنی ہیں جو دائی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ جس صفت کا تعلق ہو وہ دائی ہو جایا کرتی ہے۔وہ صفات حسنہ جو بظاہر کتنی اچھی دکھائی دیں جن کا تعلق اللہ کی ذات سے عارضی ہوا کرتی ہیں، وہ ہمیشہ قائم نہیں رہا کرتیں۔پس جاپانیوں کو دیکھیں کتنی مہذب قوم ہے لیکن دوسری جنگ عظیم میں جب ان کی فکر لگی ہے باقی دنیا سے تو جیسے جیسے مظالم انہوں نے کئے ہیں ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی مہذب قوم کس طرح تہذیب کے ہر تقاضے سے عاری ہو جائے گی اور زنگی ہو جائے گی۔اندر سے صاف ستھری دھلی ہوئی سخت بے رحم چٹان نکل آئے گی۔اُن کی تہذیب اُس روئیدگی کی طرح تھی جو چٹان کے اوپر پتلی سی مٹی کے اوپر ابھری ہوئی ہو اور جب جنگ نے ان کو آزمایا، جب دشمنیاں ابھری ہیں تو اندر سے جو بہیا نہ تہذیب ابھری ہے جو قدرتی طور پر اُن کی قوم کی ذات کا حصہ تھی۔وہ ایسی سخت تھی، ایسی ظالمانہ تھی کہ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ کبھی مغربی قوموں نے ایسے مظالم نہیں کئے۔جتنا اس مشرقی قوم نے مظالم کئے۔