خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 392

خطبات طاہر جلد ۱۲ 392 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء کے رنگ بدلے ہیں اور اُن کو الہی رنگ دے دیئے ہیں اور اُن کو الہی تہذیبیں بنادیا ہے لیکن خود اپنی پاک تہذیب کو انہوں نے بدلنے نہیں دیا۔دنیا کے جس خطے میں بھی گئے ہیں وہ الہی تہذیب کو دنیا میں نافذ کرنے والے اور رائج کرنے والے بنے ہیں۔پس دلوں کی سختی کا آشڈ آج سے کوئی تعلق نہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ وہ آپس میں ایک دوسرے پر بہت رحم کرنے والے ہیں۔آپس میں جو لوگ رحم کیا کرتے ہیں اُن کا گہرے انسانی خلق سے تعلق ہوتا ہے۔وہ وقتی طور پر مصلحتوں کے پیش نظر رحم نہیں کیا کرتے ، اُن کے دل میں رحم کا جذبہ ہوتا ہے۔چنانچہ وہ قو میں جو سخت مزاج ہیں، پتھر دل ہوا کرتی ہیں۔اُن کے آپس کے رحم بھی ایک سطحی حیثیت رکھتے ہیں اور سرسری سی اُن کے رحم کی کیفیات بظاہر دکھائی دینے والی کیفیات ہیں، گہرائی میں اُن کی فطرت میں اُن کی جڑیں نہیں ہوا کرتیں۔پس یہ قو میں جن کی شدت کے نمونے آج بوسنیا میں دکھائی دے رہے ہیں۔یہ وہ لا مذہب تو میں ہیں جو جاپان میں ہوں یا ہندوستان میں ہوں یا انگلستان میں ہوں یا امریکہ میں ہوں دراصل ان کا رنگ بھی ایک ہے ، ان کا مذہب بھی ایک ہے، ان کا دستور بھی ایک ہے یعنی خدا سے دور ہٹی ہوئی قو میں ہیں۔ان کا کوئی تعلق رنگ کی سفیدی یا رنگ کی سیاہی سے نہیں ہے۔یہ صفات وہ ہیں جو خدا کے انکار کے نتیجے میں دلوں میں پیدا ہوتی ہیں۔انسان کی شخصیت لامذہب کے طور پر ابھارتی ہیں۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ یہ صرف سفید قوموں کے اطوار ہیں جو بیان ہو رہے ہیں۔کوئی رنگ اس میں بیان نہیں ہوا۔تمام وہ قو میں جو خدا سے دور ہوتی ہیں جن کی تہذیب سطحی ہوتی ہے جن کی تہذیب کی جڑیں خدا اور اس کے تعلق میں قائم نہیں ہوتیں۔وہ اُن کی صفات ہیں جو بیان فرمائی جارہی ہیں۔جاپان کو دیکھیں کتنی مہذب قوم ہے۔میں نے جب جاپان کا سفر کیا تو میں حیران رہ گیا کہ جتنی حیرت انگیز نرمی ان کی تہذیب میں پائی جاتی ہے جیسی خوش اخلاقی ، ان کی گلی بازاروں میں دکھائی جاتی ہے جس طرح یہ لوگ مہذب اور نرم گفتار اور دوسرے کا خیال رکھنے والے اور بااخلاق ہیں۔دنیا کے پردے میں کسی قوم میں ایسے اخلاق دکھائی نہیں دیتے مگر جڑیں خدا کے تعلق میں نہیں ہیں۔جڑیں صرف کھوکھلی اور سطحی ہیں۔ایسی جڑیں جو ایسی مٹی پر ہوں جو چٹان پر واقع ہو جب تک ابتلا نہ آئے وہ قائم رہتی ہیں، جب آندھی چلے ، طوفان آئیں تو وہ مٹی دھل کر چٹان کو اُسی طرح چٹیل اور صاف