خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد ۱۲ 380 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء توجہ خدا تعالیٰ کی طرف کریں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۶۔۶۷) یہ وہ توقع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ سے رکھتے ہیں اور اس توقع میں حوالہ وہ دیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خدا آپ سے یہ توقع رکھتا ہے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ کا حوالہ دے کر کہ بات کو خدا تک پہنچا دیا ہے۔اللہ نے چودہ سو سال پہلے آپ کا جو ذکر فرمایا۔وَ اخَرِيْنَ مِنْهُم آپ ہیں، آپ سے دنیا کی نجات وابستہ فرما دی گئی ہے۔اگر آپ نے وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہ کیا جس مقام اور مرتبہ تک یہ آیت وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ آپ کو پہنچارہی ہے تو پھر دنیا کی اصلاح کی آپ کو استطاعت نہیں ہوگی۔دنیا کی اصلاح کے آپ مجاز نہیں کہلا سکتے۔وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ کے لحاظ سے تو وہ بہت دور ہوں گے لیکن اپنے اخلاق، اپنے کردار، اپنی اطاعت کی روح کے لحاظ سے، اپنے ایمان کے لحاظ سے ایسے ہوں گے گویا محمد رسول اللہ کے زمانہ کے وہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے خود آپ سے تربیت حاصل کی ہے۔کتنا بڑا مقام ہے اور ایک چھوٹے سے اشارے میں کتنی وسیع دنیا ہمارے سامنے کھڑی کر دی گئی ہے۔وَ اخَرِيْنَ منْهُمْ کا جو کچھ مقام قرآن کریم نے ظاہر فرمایا ہے وہ صحابہ کا مقام ہے حضرت اقدس محمد مصطفی موے کے غلاموں سے ملانے والا مقام ہے اور یہ ملنا اخلاقی قدروں اور ایمانی قدروں اور نیک اعمال کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔یہاں سے بات شروع کریں گے تو پھر آپ دنیا کی اصلاح کے اہل قرار دئیے جائیں گے۔پھر واقعہ آپ کی طرف غیروں کی نظریں بھی اٹھیں گی جس طرح پہلے اٹھا کرتی تھیں اور سب یہ کہیں گے کہ اس زمانہ میں اگر کوئی اس ملک کو بچا سکتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ جماعت ہے جو بچا سکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ آج سے پندرہ میں سال پہلے تک بھی غیروں کو جماعت سے یہی توقع ہوا کرتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ شیخو پورہ میں چوہدری انور حسین صاحب کے ہاں بڑی دلچسپ مجلس لگی ہوئی تھی۔چوٹی کے سیاستدان اور وکلاء جو شیخو پورہ کے تھے وہ آئے ہوئے تھے تو معاشرے کی حالت اور ملک کی حالت پر بحث ہوتے ہوتے ایک صاحب نے اٹھ کر بڑے زور سے یہ کہا کہ سب باتیں ہو چکیں۔تجزیئے ہو گئے سوال یہ ہے کہ نجات کیسے ہو؟ ہم بچیں کس طرح ؟ وہ غیر احمدی معزز انسان تھے۔انہوں نے کہا کہ میری بات تمہیں کڑوی لگے گی مگر میں نے آج سچی بات ضرور کرنی ہے۔اب یہ ملک اس طرح بچتا ہے کہ دس سال کے لئے جماعت احمدیہ کوٹھیکہ پر دے دیا جائے۔اس