خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد ۱۲ 33 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء یہ دونوں اصلاحیں بیک وقت ضروری ہیں۔یہ اصول بنانا ضروری ہے کہ ہندوستان میں بھی حکومت آزاد ہو اور انصاف پر مبنی ہو،کسی ایک مذہب کے تصور پر مبنی نہ ہو ، تمام بنی نوع انسان جو اس ملک کے باشندے ہوں ، ان کے تمام کے حقوق برابر ہوں اور چونکہ ان کے مذہب مختلف ہو سکتے ہیں اس لئے مذہب کی طرف سے حقوق نہیں بانٹے جائیں گے بلکہ ایک یکساں انسانی اصول کے تابع حقوق بانٹے جائیں گے اور وہ وہی تصور ہے جس کو قرآن کریم عدل وحق کے تصور کے طور پر پیش کرتا ہے۔یہ فیصلہ جب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی بعض مزید کڑیاں ہیں، ان کو بھی دیکھنا ہو گا، ان پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوگا ورنہ صحیح معنوں میں انصاف کے ساتھ ان باتوں پر عمل ہو نہیں سکتا یعنی سنجیدگی اور سچائی کے ساتھ ان باتوں پر عمل ہو نہیں سکتا وہ ہے مذہبی نفرتیں پیدا کرنے کا رجحان مذہب میں ایک دوسرے کے خلاف غلیظ زبانیں استعمال کرنے کا رجحان مذہبی دل آزاری کا تصور اور یہ کوشش کہ مذہبی دل آزاری کے نام پر ہر مقابل کے حقوق تلف کر لئے جائیں یہ بیماریاں ہیں جن کی اصلاح کے بغیر اعلیٰ درجے کا مذہبی ماحول قائم نہیں ہوسکتا۔اس سلسلہ میں اصول کے طور پر تین ، چار باتیں میں مختصر ا آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلا مذہبی اصول جو دونوں طرف تسلیم کرنا اور پھر اس کو سمجھوتوں کے ساتھ رائج کرنا ضروری ہے وہ مذہبی آزادی ہے ہر قوم کو ، ہر قوم کے ہر طبقے کو، ہر مکتبہ فکر کو مذہبی آزادی کا حق ہوگا اس پر دونوں حکومتوں کے سمجھوتے ہونے ضروری ہیں اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے مذہبی آزادی کا حق جب آپ دیتے ہیں تو اگلا قدم تبلیغ کا بیچ میں داخل ہو جاتا ہے کیا الف کوب کو تبلیغ کرنے کی اجازت ہے یا ب کو بھی الف کو تبلیغ کرنے کی اجازت ہے مذہبی آزادی کے تصور میں ہر طرف سے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کو برابر تبلیغ کا حق ہوگا۔جب تبلیغ کا حق دیتے ہیں تو پھر فتنہ فساد کا گویا دروازہ کھولا جاتا ہے کیا تبلیغ کا حق دینا اور فتنہ و فساد کا دروازہ کھولنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یہ مسئلہ حل کرنا ضروری ہوگا۔تبلیغ کے ذریعے فتنہ کیوں پھیلتا ہے پہلے تو اس پر غور کرنا ضروری ہے اگر اس لئے پھیلتا ہے کہ تبلیغ کرنے والا غلیظ زبان استعمال کرتا ہے، گند بولتا ہے ،مخالف آدمی کو اور اس کے رہنماؤں کو گالیاں دیتا ہے اور جہاں زور چلے وہاں تلوار استعمال کرتا ہے تو پھر اس چیز کا نام تبلیغ کی آزادی یا تبلیغ کا حق دینا نہیں ہے۔یہ تو حد سے زیادہ حماقت اور جہالت ہے اسے تبلیغ قرار دے ہی نہیں سکتے ، اس